اصحاب احمد (جلد 4) — Page 224
۲۲۴ تذکرہ ہوا۔سردار گلاب سنگھ ( جو ایک وقت وزیر اعظم تھے ) نے کہا کہ میں نے اسلامی تاریخ پڑھی ہے۔ان کے حالات شام کے نبیوں سے ملتے ہیں اگر وہ شام کے نبی بچے تھے تو یہ بھی سچے ہیں۔میں نے یہ واقعہ حضرت کو لکھ دیا۔آپ نے فرمایا ! دوسری اقوام اصل نتیجہ پر پہنچ جاتی ہیں مگر مسلمانوں کی حالت دیکھو کہ ان کو منہاج نبوت سمجھ نہیں آتا۔ایک واقعہ کے تعلق میں حضور نے حضرت منشی صاحب کی نسبت فرمایا جو ایمان ہمارے پرانے دوستوں کو حاصل ہے۔وہ دوسروں کو حاصل ہونا مشکل ہے۔۴۔ایک مرتبہ میں اور حضرت منشی اروڑے خانصاحب اور حضرت خاں صاحب محمد خاں صاحب لدھیانہ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے۔رمضان کا مہینہ تھا۔میں نے روزہ رکھا ہوا تھا۔اور میرے صحابہ نے نہیں رکھا تھا۔جب ہم حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے تو تھوڑا سا وقت غروب آفتاب میں باقی تھا۔حضرت کو انہوں نے کہا کہ ظفر احمد نے روزہ رکھا ہوا ہے۔حضرت فوراً اندر تشریف لے گئے۔اور شربت کا ایک گلاس لے کر آئے اور فرمایا روزہ کھول دو سفر میں روزہ نہیں چاہیئے۔میں نے تعمیل ارشاد کی اور اس کے بعد بوجہ مقیم ہونے کے ہم روزہ رکھنے لگے۔افطاری کے وقت حضرت اقدس خود تین گلاس ایک بڑے تھال میں رکھ کر لائے ہم روزہ کھولنے لگے۔میں نے عرض کیا کہ حضور منشی جی کو ( منشی اروڑے خاں صاحب کو ) ایک گلاس میں کیا ہوتا ہے۔حضرت مسکرائے اور جھٹ اندر تشریف لے گئے۔اور ایک بڑا لوٹا شربت کا بھر کر لائے اور منشی جی کو پلایا۔منشی جی یہ سمجھ کر کہ حضرت اقدس کے ہاتھ سے شربت پی رہا ہوں پیتے رہے اور ختم کر دیا۔دوستی بابا خیل میں ایک مست رہتا تھا۔میں ایک مرتبہ اس کے پاس گیا اور السلام علیکم کہا۔اس نے کہا کہ بیٹھ جا تیرے لئے چاء آتی ہے اور