اصحاب احمد (جلد 4) — Page 222
۲۲۲ صاحب دہلی تشریف لے جارہے ہیں۔کہنے لگا۔پھر مجھے اس سے کیا۔میں نے کہا پھر تمھارا کام وہاں کون کرے گا۔اس پر وہ جھنجھلا کر مجھے بے تکلفی۔سے برا بھلا کہنے لگا۔پھر خود ہی اس نے کہا۔میں نے مرزا کے خلاف ایک مضمون لکھا تھا۔جس بیگ میں وہ مضمون تھا وہ بیگ گم ہو گیا ہے۔میں نے کہا اب بھی آپ ایمان نہیں لاتے۔کہنے لگا اچھا یہ بھی مرزا کی کرامت ہوئی۔میں نے کہا تو اور کیا ہوا۔کہنے لگا کیا میں دوبارہ وہ مضمون نہیں لکھ سکتا۔میں نے کہا۔کیا خدا تعالیٰ دوبارہ اسے ضائع نہیں کرسکتا۔اس پر وہ چپ ہو گیا۔اسی طرح ایک دفعہ مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی نے مجھے کہا۔مجھے ایک ایسی حدیث معلوم ہے کہ اگر وہ میں بتا دوں تو مرزا کو بڑی مدد ملے۔میں نے کہا۔مولوی صاحب ذرا اس آیت کا ترجمہ مجھے بتا دیں۔وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللَّهِ - پس پھر وہ خاموش ہو گئے۔: یہ ساری روایات ریویو آف ریلیجز (اردو) بابت ماہ جنوری ۱۹۴۲ء میں شائع ہوئی تھیں۔قارئین کے از دیاد علم وغیرہ کے لئے الحکم۔بدر۔اور سیرۃ المہدی کے حوالے درج کئے گئے ہیں۔