اصحاب احمد (جلد 2) — Page 526
526 المغرب کی بابت میرا مذہب اب تک یہ ہے کہ بدعت کا مغرب سے ظاہر ہونا سوجیسی بدعت کہ عیسائیوں ( سے ) اس وقت ظاہر ہوئی ہے کہ ایک جھوٹے مذہب کے پھیلانے میں اتنا روپیہ صرف کیا گیا کبھی ایسا نہیں ہوا اور یہ معنی ہم نے کتب تعبیر رویاء سے لئے ہیں کیونکہ کتب رویاء میں لکھا (ہے) کہ طلوع شمس من المغرب کے معنی ظہور بدعت ہے۔یعنی الٹی بات۔اور فرمایا کہ میں تین علموں کو تفسیر میں رکھتا ہوں۔کتب لغت ،لغت تعبیر الرؤیا۔۱۲؍ جنوری ۱۸۹۸ء نماز صبح حضرت کے ساتھ پڑھی مگر بہ سبب طبیعت کے بدمزہ ہونے کے نہ بیٹھا اور چلا آیا۔ڈیرہ پر آکر ایک پاؤ قرآن شریف پڑھا حضرت اقدس کے ساتھ سیر کو گیا۔سیر میں مذہب شیعہ کے متعلق گفتگو ر ہی اور اس کے بعد کھانا کھایا پھر نماز ظہر باجماعت پڑھی۔کھانے سے پہلے حضرت مولوی نورالدین صاحب تشریف لائے اور اثنائے طعام میں تشریف لے گئے پھر نماز ظہر پڑھی مگر نماز کے بعد حضرت اقدس بیٹھے نہیں۔نماز عصر بھی باجماعت ادا ہوئی۔اس وقت حضرت نہیں بیٹھے۔میں بھی چلا آیا اب مولوی قطب الدین صاحب اور خواجہ قطب الدین صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب اور خان عبد العزیز خاں صاحب جو پہلے شیعہ تھے اور ایک معزز قزلباش کے فرزند ہیں تشریف لائے اور پھر مولوی عبد الکریم صاحب ہ مکرم عرفانی صاحب فرماتے ہیں کہ ☆ خواجہ قطب الدین نہیں بابا قطب الدین۔یہ بڑے ہی مخلص صحابی تھے درمیانہ قد تھا۔بڑے مرتاض اور حضرت مسیح موعود کی محبت میں سرشار ہر قربانی کو آمادہ۔یہ کوٹلہ فقیر ضلع جہلم کے رہنے والے تھے۔“ مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی فرماتے ہیں کہ بہت بلند اور عمدہ اذان کہتے تھے انکا ذکر فہرستہائے آئینہ کمالات اسلام ضمیمہ انجام آتھم میں ۳۷ اور ۱۸۹ نمبر پر آتا ہے آپ کے قادیان وارد ہونے کا ذکر الحکم ۷-۱۲-۰۱ اصفحہ ۴ ۱ کالم ۳ میں آتا ہے۔حمد خالد مکرم عرفانی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ خان عبد العزیز خاں صاحب جیسا کہ نواب صاحب نے لکھا ہے قزلباش تھے اور لاہور کے قزلباشی سے تعلقات برادری تھے۔وہ سیالکوٹ میں رہتے تھے۔احمدیت میں داخل ہوکر عرصہ تک قادیان ہی میں رہے اور اعمال صالحہ میں خاص تبدیلی اور ترقی کی تھی۔“