اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page xvii of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page xvii

یہ حقیقت ہے کہ اپنے پیارے آقا علیہ وعلی مطاعہ الصلوۃ والسلام کی محبت ان تاثرات کا باعث ہوئی ہے۔پیارے اور محبوب سے تعلق رکھنے والی ہر بات دل کو بھاتی ہے اور چونکہ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے اقوالِ مبارکہ وغیرہ اس کتاب میں درج تھے اس لئے احباب نے کتاب کو بصد شوق قبول فرمایا۔جلد دوم کے متعلق حضرت نواب صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حالات کی فراہمی کیلئے میں نے اپنی بساط کے مطابق کافی کوشش کی۔حالات کی فراہمی آپ کی وفات کے جلد بعد شروع کر دی تھی۔فسادات میں اس ضمن میں میں نے کام جاری رکھا چنانچہ ۳ اکتو بر ۴۷ ء کو جب کہ قادیان پر حملہ ہوا میں اس تعلق میں ڈائری کی نقل کر رہا تھا ضیاع کے خوف سے حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی خدمت میں لاہور بھجوا دی۔اس ضمن میں تین دفعہ مالیر کوٹلہ کا سفر کر کے بہت سی مفید معلومات مکرم میاں محمد عبد الرحمن خان صاحب سے حاصل کیں اور بہت سی خط و کتابت بھی کرنی پڑی۔سرسید کی تحریک کے تعلق میں علیگڑھ سے بھی بعض کوائف حاصل کئے۔علاوہ ازیں سلسلہ کی مطبوعات پر بھی وسیع نظر ڈال کر سلسلہ کے اخبارات ورسائل الحکم ، البدر، بدر، ریویو آف ریلیجنز ، تحی الا زبان، افضل ، رسالہ تعلیم الاسلام کے علاوہ برا من احمدیہ ازالہ او ہم آئینہ کمالات اسلام، انجام آنتم، اوہام ، انوار الاسلام، ضیاء الحق ، نزول اسی ، جلسه احباب، حقیقۃ الوحی تبلیغ رسالت، مکتوبات احمدیہ، مکتوبات امام بنام غلام، منصب خلافت ، برکات خلافت ، القول الفصل ، انوارِ خلافت، حقیقۃ الامر، آئینہ صداقت،اظہارحقیقت، کشف الاختلاف ، اہل پیغام کے بعض خاص کارنامے ، سیرۃ مسیح موعود ، سیرۃ المہدی، تذکرۃ المہدی، ذکر حبیب اور آئینہ حق نما سے استفادہ کیا اور غیر مبائیعین کی کتب میں مسجد داعظم اور اندرونی اختلافات سلسلہ احمدیہ کے اسباب اور مخالفین کے لٹریچر میں سے ایک امر کے لئے رسالہ اشاعۃ السنہ کو مدنظر رکھا گیا۔جلیل القدر صحابہ کے تعلق میں خصوصاً بہت زیادہ محنت اور جانفشانی درکار ہے اور مجھے اس اقرار میں باک نہیں کہ اس سلسلہ میں ابھی مزید محنت کی گنجائش تھی۔جو قلت علم اور قلت وقت کے پیش نظر یا مجبوری حالات نہیں کی جاسکی۔جلد دوم کی خصوصیات جلد ہذا کی بعض خصوصیات احباب کے علم کے لئے درج ذیل کی جاتی ہیں : (1) الحمد للہ کہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دو درجن کے قریب غیر مطبوعہ مکتوبات شائع کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے جن میں حضور کی غیر مطبوعہ وحی درج ہے اسی طرح حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کا