اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 80 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 80

79 مرزا ایوب بیگ صاحب رضی اللہ عنہ * خاندانی حالات: مرزا ایوب بیگ صاحب کا خاندان مغل بر لاس قوم سے تعلق رکھتا ہے۔اس کے ہندوستان میں مورث اعلیٰ مرزا عبدالحکیم بیگ تھے۔جن کا بنا کر وہ گاؤں موضع حکیم پور ہے۔جو کلانور سے تین میل کے فاصلہ پر ہے۔۱۹۴۷ء تک اسی خاندان کے قبضہ میں تھا۔آپ اس فوج کے سرداروں میں سے تھے۔جو شاہ طہماسپ صفوی نے ہمایوں بادشاہ کے ساتھ ۱۵۵۵ء میں ایران سے روانگی کے وقت امداد کے لئے بھیجی تھی۔جب ۱۵۵۶ء میں شہنشاہ اکبر بمقام کلانور تخت نشین ہوا۔تو اس نے اس جگہ اپنی تاجپوشی کی یاد گار قائم کرنا چاہی۔اس لئے اس نے مرزا عبدالحکیم بیگ کو مع اور بہت سے ساتھیوں کے کلانور میں آباد کیا۔مرزا صاحب موصوف ان سب نئے آبادکاروں کے سردار تھے اور کلانور کے محاصل میں سے ایک چوتھائی ان کو ملتا تھا۔آپ کی نسل میں سے بہت سے ذی جاہ افراد اور کئی عالم و فاضل اور اہل تقویٰ لوگ ہو گزرے ہیں۔مرزا عبدالرحیم بیگ: مرزا ایوب بیگ صاحب کے پڑدادا مرزا عبدالرحیم بیگ جو مہاراجہ رنجیت سنگھ کے مصاحبوں میں سے تھے اور سکھ حکومت سے قبل ریاست ٹونک میں وزیر اعظم رہ چکے تھے۔اپنے زمانہ میں بڑے متقی اور پر ہیز گار مشہور تھے۔آپ کے بیٹے مرزا احمد بیگ رسالدار بہادر اپنی سخاوت، جوانمردی، مہمان نوازی اور یتامی اور غرباء پروری میں مشہور تھے۔انہوں نے سیکنڈ رجمنٹ ہڈسن ہارس کی فوجی ملازمت میں قابل تعریف خدمات سرانجام دیں۔چنانچہ آپ کے کمانڈنگ افسران نے کئی مراسلات اور اسناد میں آپ کی جوانمردی کے واقعات کا ذکر کیا * یہ حالات ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے غالباً 1911ء میں قلمبند کئے تھے۔اور بعد ازاں ڈلہوزی میں ۱۹۳۵ء میں انہوں نے اس مسودہ پر نظر ثانی کی۔مکرم شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی فرماتے ہیں کہ ”مرزا یعقوب بیگ صاحب ان کی سیرت لکھنا چاہتے تھے۔اور کچھ حصہ میرے اہتمام میں طبع ہوا تھا۔پھر وہ رہ گیا۔اور اختلاف کے بعد بھی ڈاکٹر صاحب نے الحکم میں ان کے متعلق لکھا کے راقم کو یہ حالات بلکہ خاندان کے متعلق حالات کا اکثر حصہ اور تصاویر اور سندات اور سرکاری چھٹیوں کی مطبوعہ نقول آپ کے برادر زادہ مرزا مسعود بیگ صاحب ایم۔اے بی۔ٹی ہیڈ ماسٹر مسلم ہائی سکول لاہور کے ذریعہ دستیاب ہوئی ہیں البتہ اقتباسات اور حوالے میری طرف سے درج ہوئے ہیں۔ان حالات کا کچھ حصہ میں نے رسالہ ریویو آف ریلینجز (اردو) میں ماہ فروری و مارچ ۱۹۴۷ ء میں بھی شائع کرایا تھا۔اب قدرے تغیر اور کافی ایزادی کے ساتھ یہاں درج کیا گیا ہے۔(مؤلف)