اصحاب احمد (جلد 1) — Page 282
283 بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد ه فصلی علی رسولہ الکریم وعلى عبده المسيح الموعود رتن باغ ۳۰/۳/۵۰ مکرمی محترمی بھائی صاحب قادیانی السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ عزیزم مکرم مرزا برکت علی صاحب کا تیار کردہ نقشہ ربوہ چلا گیا تھا اور اب میرے پاس پہنچا ہے۔خُدا مرزا صاحب کو جزائے خیر دے۔میرا مشورہ حسب ذیل ہے۔1 )۔بیت الدعا کے ساتھ والا شرقی دالان بھی بہت تاریخی اور مقدس ہے اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی عمر کا آخری زمانہ گزارا اور حضرت اماں جان بعد میں یہیں رہیں یہاں بہت سے الہامات ہوئے۔بلکہ اماں جان تو اسے بیت الفکر میں شامل کیا کرتی ہیں اور فرماتی ہیں کہ حضرت مسیح موعود بھی اسے بیت الفکر کا حصہ شمار فرماتے تھے۔2)۔بیت الدعا سے غربی جانب کا حجرہ بھی تاریخی ہے اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حقیقتہ الوحی اور چشمہ معرفت لکھی اور کچھ عرصہ رہائش بھی رکھی۔نیچے کے دالان سے آنے والوں کی ملاقات بھی آخری ایام میں یہیں ہوتی تھی۔3)۔گول کمرہ بھی یادگاری چیز ہے اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اوائل میں دوستوں کے ساتھ ملاقاتیں کرتے اور کھانا کھاتے تھے۔4)۔گول کمرہ کے ساتھ والی کوٹھڑی کا غربی جانب کا دالان جس کا نشان نقشہ میں نہیں لگایا گیا اس میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی پیدائش ہوئی اور بعض دوسرے بچوں کی بھی ( مگر یہ قابل تحقیق ہے سیرت الہدی سے حضرت اماں جان کی روایت دیکھ لی جائے۔) 5) جب کنواں مسجد اقطے پر نمبر لگایا ہے تو کنواں دار اسی پر بھی نمبر لگنا چاہئے یہ تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود بنوایا تھا۔6۔حضرت اماں جان کے کنویں والے صحن کی جانب غرب اونچے دالان میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام گرمیوں کا موسم گذارتے رہے ہیں۔“ 7)۔اسی طرح میرے مکان کے بڑے دالان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فروری