اصحاب احمد (جلد 1) — Page 107
106 ہوئے اور پھر ان کی سعادت انہیں گیارہ سال بعد بہشتی مقبرہ میں کھینچ لائی ؟ مرحوم مسجد مبارک میں بہت سا وقت فرائض و نوافل کے ادا کرنے اور لمبی لمبی دعائیں کرنے میں صرف کرتے تھے۔اس وقت آپ معمر کے لحاظ سے بالکل نوجوان تھے۔اس عمر میں بالعموم نوجوان کھیل کود کے مشتاق ہوتے ہیں اور نمازوں میں ایسا سوز و گداز اور توجہ الی اللہ نہیں ہوتی لیکن اس اُنیس سالہ نوجوان کے تقویٰ کا کیا کہنا کہ جسے مسجد مبارک میں وفات سے چھ سال قبل نیم خوابی کی حالت میں پہلا الہام اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ منَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ * ہوا۔کسی صفائی سے آپ کا یہ الہام آپ کی عاقبت بالخیر ہونے اور پھر بہشتی مقبرہ میں دفن ہو جانے سے پورا ہو ا۔مکرم مفتی محمد صادق صاحب تحریر فرماتے ہیں: ایک پیارے دوست کا جنازہ: آہ! یہ کسی دوست کا ذکر ہے؟ ایوب صادق کا۔ہمارے اکثر احباب حضرت مرزا ایوب بیگ صاحب مرحوم و مغفور برادر ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کے نام نامی سے واقف ہیں۔یہ نو جوان چھوٹی عمر میں فوت ہو گئے تھے۔فاضل کا ضلع فیروز پور میں دفن کئے گئے تھے۔اس بات کو گیارہ سال گزرے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی بھی اجازت حاصل کی گئی تھی اور اب حضرت خلیفہ اسی کی اجازت سے اس مرحوم بھائی کا جسم مبارک صندوق میں بند یہاں لایا گیا۔حضرت نے بمعہ جماعت جنازہ پڑھایا اور مقبرہ بہشتی میں دفن کیا گیا۔ہمارے دوست ڈاکٹر مرزا صاحب عزیز مرحوم کے سواغ چھپوار ہے ہیں، اس واسطے مجھے کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں، البتہ اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ میرے ساتھ اس عزیز کو محبت کا ایسا گہرا تعلق تھا کہ آج تک جس قدر جنازوں کی میں نے نمازیں پڑھی ہیں، مجھے یاد نہیں کہ کسی میں بھی اس عزیز دوست کے واسطے دعا کرنا مجھے بھولا ہو۔اَللَّهُم اغْفِرُ لَهُ وَارحَمُهُ - اللَّ * ترجمہ اللہ دوست ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے۔وہ نکالتا ہے ان کو اندھیروں سے نور کی طرف۔(مؤلف)