اصحاب احمد (جلد 12) — Page 11
11 حضرت مولوی سرور شاہ صاحب اپنے علم اور تقویٰ کی وجہ سے جماعت میں ایک خاص مقام رکھتے تھے۔آپ کی زندگی کے حالات بہت ہی ایمان افروز ہیں۔نو جوانوں کو بالخصوص یہ کتاب بہت کثرت سے خرید کر پڑھنی چاہئے۔بلکہ کوشش کرنی چاہئے کہ اصحاب احمد کے اس سلسلہ کی تمام تصانیف گھر میں موجودر ہیں۔زیر نظر کتاب حسب سابق عمدہ سفید کاغذ پر بڑے سائز میں شائع ہوئی ہے۔210 صفحات کی مجلد کتاب متعدد نقشوں، چر بوں اور تصاویر سے مزین ہے۔(2) حضرت مولوی محمد دین صاحب ( ناظر تعلیم ربوہ) اصحاب احمد جلد پنجم حصہ سوم مطالعه کرنے پر اپنے ذیل کے تاثرات ایک مکتوب میں رقم فرماتے ہیں۔سیرت سرور مطالعہ سے گزری۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے اور آپ کی عمر میں برکت دے اس مرد مجاہد کی پاک زندگی کا نقشہ آنکھوں کے سامنے پھر گیا اور ساتھ ہی قادیان کی ساری زندگی ایک فلم کے طور پر سامنے آگئی۔میں نے یوں محسوس کیا کہ میں حضرت کے زمانہ میں قادیان میں ہوں اور وہ تمام واقعات۔۔۔تمام کے تمام میرے سامنے ہو رہے ہیں۔بعض حصے میں نے کئی دفعہ پڑھے۔جیسے کہ بعض دفعہ کوئی اچھا خواب ہوتا ہے اور جاگ کھلنے پر انسان پھر سو جاتا ہے تا کہ وہ نظارہ پھر آنکھوں کے سامنے آجائے۔“ (3) موقر الفضل رقمطراز ہے۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کے حالات ضبط تحریر میں لانا تا کہ ہمارے اور ہماری آئندہ نسلوں کیلئے وہ روشنی کے مینار ثابت ہوں نہایت ضروری کام تھا۔ہمارے نزدیک اس میں قدرت کا ہاتھ ہے کہ ملک صلاح الدین صاحب ایم اے کے دل میں یہ شوق بھڑ کا دیا۔جس کے نتیجہ میں آپ بعض مقتدر صحابہ کے ایمان افروز حالات قلمبند کرنے میں ایک بڑی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔اگر چہ یہ کام اتنا وسیع ہے کہ اس کو ایک انسان کی کوشش تک محصور نہیں کیا جاسکتا اور چاہئے کہ بعض دیگر احباب بھی اس کام میں ملک صاحب کی طرح پورے انہماک سے مصروف ہوں لیکن تا حال یہ سہرا ملک صاحب کے سر پر ہی ہے کہ آپ نے یہ کام سرانجام دینے کا تہیہ کیا ہوا ہے۔اس وقت ہمارے سامنے اصحاب احمد کی جلد پنجم کا حصہ سوم ہے جو حضرت مولوی سید سرورشاہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حالات کے بقایا پر مشتمل ہے۔ملک صاحب نے جلد پنجم کے دو حصے اول و دوم پہلے آپ کے حالات پر مشتمل شائع کئے ہیں۔جو قبول عام کی سند حاصل کر چکے ہیں۔