اصحاب احمد (جلد 11) — Page 386
386 سید نا حضرت خلیفقہ اسیح الثانی اید واللہ تعالی نے جلسہ سالانہ ۱۹۵۵ء پر فرمایا: صحابہ فوت ہورہے ہیں۔پچھلے لوگوں کو دیکھو۔باوجود یکہ ان لوگوں میں اتنا علم نہیں تھا۔انہوں نے اس چیز کی بڑی قدر کی اور صحابہ کے حالات پر بڑی بڑی ضخیم کتابیں دس دس جلدوں میں لکھیں۔ہمارے ہاں بھی صحابہ کے حالات محفوظ ہونے چاہیں۔ملک صلاح الدین صاحب لکھ رہے ہیں لیکن وہ کہتے ہیں میں مقروض ہو گیا ہوں کم سے کم احمدیوں کو چاہیے تھا کہ اپنے آباء کے نام یاد رکھتے آپ لوگ تو قدر نہیں کرتے جس وقت یورپ اور امریکہ احمدی ہوا تو انہوں نے آپکو برا بھلا کہنا ہے کہ حضرت صاحب کے اور ان کے ساتھ رہنے والوں کے حالات بھی ہمیں معلوم نہیں۔وہ بڑی بڑی کتابیں لکھیں گے جیسے یورپ میں بعض کتابوں کی ہیں ہیں چالیس چالیس پونڈ قیمت ہوتی ہے۔اور بڑی بڑی قیمتوں پر لوگ ان کو خریدیں گے مگر ان کا مصالحہ ان کو نہیں ملے گا۔اور وہ غصہ میں آکے تم کو بددعا ئیں دیں گے کہ ایسے قریبی لوگوں نے کتنی قیمتی چیز ضائع کر دی۔“ (الفضل ۱۶ رفروری ۱۹۵۶ء)