اصحاب احمد (جلد 11) — Page 384
384 لگا کیا حضرت مسیح موعود نبی تھے میں نے کہا ہاں۔تو اس نے کہا۔اچھا مجھے اس سے بڑی خوشی ہوئی۔پھر کہنے لگا۔آپ قسم کھا کر بتائیں کہ آپ نے انہیں دیکھا۔میں نے کہا ہاں میں ان کا بیٹا ہوں اس نے کہا۔نہیں۔میرے سوال کا جواب دیں کہ ان کو دیکھا میں نے کہا ہاں دیکھا تو وہ کہنے لگا کہ اچھا میرے ساتھ مصافحہ کریں اور مصافحہ کرنے کے بعد کہا مجھے بڑی ہی خوشی ہوئی کہ میں نے اس ہاتھ کو چھوا۔جس نے مسیح موعود کے ہاتھوں کو چھوا تھا۔اب تک وہ نظارہ میرے دل پر نقش ہے۔اسے رو یا وکشوف بھی ہوتے تھے۔۔۔مجھے اس خیال سے بھی گھبراہٹ ہوتی ہے کہ وہ لاکھوں انسان جو چین ، جاپان ، روس ، امریکہ، افریقہ (وغیرہ) میں آباد ہیں۔ہم ان تک حضرت مسیح موعود۔۔۔کا پیغام پہنچائیں اور وہ خوشی سے اچھلیں اور کہیں کہ ہمیں حضرت مسیح موعود دکھلا ؤ اور جب ہم کہیں کہ وہ فوت ہو گئے۔تو وہ پوچھیں کہ اچھا ان کے شاگر دکہاں ہیں تو ہم انہیں کہیں کہ وہ بھی فوت ہو گئے۔احمدیوں کا یہ جواب سن کر وہ لوگ کیا کہیں گے۔اگر ایسا ہو تو وہ ہمارے مبلغوں کو کس حقارت سے دیکھیں گے۔کہ ان نالائقوں نے ہم تک پیغام پہنچانے میں کس قدر دیر کی ہے تو ہمیں پوری کوشش کرنی چاہیے۔۔۔تا ہر ایک کہہ سکے کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ سے مصافحہ کیا ہے۔یہ اتنی بڑی خوشی ہے کہ اس سے ہمیں دنیا کو محروم نہیں رکھنا چاہیے۔حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ” بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گئے یہ تو حالت تنزل ہے۔جب لوگ آپ سے ملنے والوں کو ڈھونڈ ینگے اور کوئی نہ ملے گا تو کہیں گے کہ اچھا کپڑے ہی سہی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ۱۷۸ میں سچے دل سے کہتا ہوں کہ کم از کم ایک لاکھ آدمی میری جماعت میں ایسے ہیں جو سچے دل سے میرے پر ایمان لائے اور اعمال صالح بجالاتے ہیں اور باتیں سننے کے وقت ایسے روتے ہیں کہ ان کے گریبان تر ہو جاتے ہیں