اصحاب احمد (جلد 11) — Page 117
117 نیز سناتے ہیں کہ ایک روز آپ نے مجھے بھی ساتھ کھانے میں شامل ہونے کا ارشادفرمایا۔میں نے عرض کیا کہ آپ کا کھانا قیمتا ہے، اس لئے شامل ہو جاتا ہوں ورنہ محرر لنگر خانہ کا کھانا مقرر نہیں۔آپ بہت حیران ہوئے۔اور فرمایا کہ مثل ہے کہ بلی گوشت کی نگران“۔یہ طریق درست نہیں کہ ایک شخص کھانا تقسیم کرنے پر مقرر ہو لیکن خود وہ گھر جا کر کھانا کھائے۔آپ خود ہی اس وقت ناظر اعلیٰ تھے۔آپ نے ناظر اعلیٰ کو مخاطب کر کے تحریر کیا کہ میں نے آج لنگر خانہ میں یہ نئی بات دیکھی ہے۔کہ محر لنگر خانہ دونوں وقت کھانا تقسیم کرتا ہے مگر اسے کھا نا نہیں ملتا۔چنانچہ دوسرے روز انجمن میں فیصلہ ہوا کہ محر لنگر خانہ کو دونوں وقت کھانا دیا جائے۔چنانچہ یہ طریق بدستور جاری رہا اور یہ ان کی یادگار ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ حضرت چوہدری صاحب غربا ء کا خاص خیال رکھتے تھے۔آپ کے صاحبزادہ محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے حضرت والد صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ بوڑھے ہیں۔لنگر خانہ میں کھانا ٹھنڈا ہو جاتا ہے، اور روٹی بھی خشک ہو جاتی ہے۔مبادا آپ بیمار ہو جا ئیں۔بہتر ہے آپ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے ہاں کھانا کھایا کریں۔فرمایا کہ خواجہ کمال الدین صاحب وغیرہ عمدہ کھانے کے عادی ایسے کھانے کھا کر سلسلہ سے دور ہو گئے۔میں لنگر خانہ کی خشک روٹیوں کو پسند کرتا ہوں ، جو الہاما تیرے لئے اور تیرے درویشوں کے لئے مقرر ہو چکی ہیں۔آپ نے خود اس واقعہ کا ذکر مجھ سے کیا تھا۔“ (۵) محترم قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل رقم فرماتے ہیں کہ : مکرم معظم چوہدری نصر اللہ خاں صاحب کے سوانح میں تین باتوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ایک تو یہ کہ جب وہ ناظر اعلیٰ تھے تو میں نے دیکھا کہ وہ نہایت انہماک سے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک کتاب اپنے ایک مولوی ساتھی کے ساتھ پڑھ رہے اور حاشیہ پر نوٹ لکھ رہے بقیہ حاشیہ پر بھی یہ انتظام جاری رہتا تھا۔لنگر سے قیمتاً کھانے کا انتظام یا تو اس سے پہلے کا ہوگا اور یا پھر کسی ایسے عرصہ کا ہوا ہو گا جب چوہدری فضل احمد کے گھر سے قادیان سے باہر تشریف لے گئے ہوں۔محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ آپ کی ہجرت سے قبل کسی مشاورت یا جلسہ سالانہ کا ہے کہ اگر آپ ہمارے ساتھ حضرت صاحبزادہ صاحب کے مکان پر ٹھہریں تو آرام رہے گا۔