اصحاب احمد (جلد 10) — Page 380
380 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خسر حضرت میر ناصر نواب صاحب ابھی تک داخل سلسلسہ احمدیہ نہ ہوئے تھے۔حضور کی طرف سے اس جلسہ میں شریک ہونے کی تحریک پر قادیان تشریف لائے اور حضرت اقدس کی باتیں سن کر آپ کے تمام شبہات دور ہو گئے۔چنانچہ آپ تحریر کرتے ہیں:۔اس جلسہ پر تین سو سے زیادہ شریف اور نیک لوگ جمع تھے۔جن کے چہروں سے مسلمانی نورٹپک رہا تھا۔امیر، غریب، نواب، انجینئر، تھانہ دار، تحصیلدا، زمیندار، سوداگر، حکیم، غرض ہر قسم کے لوگ تھے۔ہاں چند مولوی بھی تھے مگر مسکین مولوی۔مولوی کے ساتھ مسکین اور منکسر کا لفظ یہ مرزا صاحب کی کرامت ہے کہ مرزا صاحب سے مل کر مولوی بھی مسکین بن جاتے ہیں۔ورنہ آج کل مسکین مولوی اور بدعات سے بچنے والا صوفی کبریت احمر اور کیمیائے سعادت کا حکم رکھتا ہے۔۔۔وہ وقت عنقریب (آتا) ہے کہ جناب مرزا صاحب کی خاک پا کو اہل بصیرت آنکھوں میں جگہ دیں اور اکسیر سے بہتر سمجھیں اور تبرک خیال کریں۔مرزا صاحب کے سینکڑوں ایسے دوست ہیں جو مرزا صاحب پر دل و جان سے قربان ہیں۔۔مولوی اور خصوصاً مولوی محمد حسین صاحب سرآمد علماء پنجاب (بزعم خود ) سے لوگوں کو اس قد رنفرت کہ جس کے باعث مولوی صاحب کو لاہور چھوڑنا پڑا۔موحدین کی جامع مسجد میں اگر اتفا قالا ہور میں تشریف لے جاویں تو مارے ضد اور شرم کے داخل نہیں ہو سکتے۔اور مرزا صاحب کے پاس ( جو بزعم مولوی صاحب ) کافر بلکہ اکفر اور دجال ہیں، گھر بیٹھے لاہور، امرتسر ، پشاور، کشمیر، جموں ، سیالکوٹ ، کپورتھلہ ،لدھیانہ، بمبئی مما لک شمال و مغرب، اودھ، مکہ معظمہ وغیرہ بلاو سے لوگ گھر سے بوریا بدھنا باندھے چلے آتے ہیں۔پھر آنے والے ، موقد ، الحدیث مولوی ،مفتی ، پیرزادے ، شریف ،امیر ، نواب ، وکیل۔اب ذرا سوچنے کا مقام ہے کہ باوجود اکثر مولویوں سے کفر کے فتویٰ پر مہریں لگوانے کے اللہ جل شانہ نے مرزا صاحب کو کس قدر چڑھایا اور کس قدر خلق خدا کے دلوں کو متوجہ کر دیا۔یہ لوگ ) مرزا صاحب کے گرد ایسے جمع ہوتے تھے جیسے شمع کے گرد پروانے نائین رسول ( کہلانے والے)۔۔کسی ملک میں ہدایت پھیلانا اور مخالفین اسلام کو زیر کرنا تو در کنار ایک شہر بلکہ ایک محلہ کو بھی درست نہیں کر سکتے۔برخلاف اس کے مرزا صاحب نے شرقاً غر با مخالفین اسلام کو دعوت اسلام کی اور ایسا نیچا کر دکھایا کہ کوئی مقابل آنے جو گا نہیں رہا وہی نیچری جو مسلمان صورت بھی نہیں تھے،مرزا صاحب کے ملنے سے مومن سیرت ہو گئے۔اہلکاروں ، تھانہ داروں نے رشوتیں لینی چھوڑ دیں ، نشہ بازوں نے نشے ترک کر دئے۔مرزا صاحب کے شیعہ مریدوں نے تبر اترک کر دیا۔صحابہ سے محبت کرنے لگے بعض پیر زادے جو