اصحاب احمد (جلد 10) — Page 214
214 آپ کی تبلیغ اور تالیف قلوب کے ذریعہ آپ کے سرال کے چالیس اکتالیس افراد حضرت مسیح موعود اور خلافت ثانیہ کے زمانہ میں احمدیت میں داخل ہوئے۔جھانسی میں آپ چھ سال ملازمت میں رہے۔اور وہاں بھی آپ کی مذہبی گفتگو ہوتی رہتی وہاں مخدوم بخش صاحب ٹیلر - خاں فیض محمد خان صاحب۔کریم الدین چودھری اور متعدد احباب احمدیت میں داخل ہوئے۔انبالہ چھاؤنی میں تین دوست آپ نے احمدی بنائے۔با بومحمد علی خانصاحب شاہجہانپوری کو پانچ سال تبلیغ کر کے احمدی بنایا۔یہ اس وقت ریاست اندور میں تھے۔آپ بیان کرتے ہیں کہ میرٹھ میں ہمارے خلاف اہلحدیث ہر سال جلسہ کراتے تھے۔مولوی ثناء اللہ صاحب امرت سری۔مولا نا مرتضی حسن صاحب در بھنگی۔مولوی محمد صاحب جونا گڑھی کو فیس پر بلاتے اور تقریریں کراتے۔ایک ایسے ہی موقع پر ان کی طرف سے شدومد سے انتظام ہوا اور بارہ علماء بلائے گئے۔ہم پانچ احمدی جلسہ میں پہنچے۔پہلی تقریر مولوی ثناء اللہ صاحب کی تھی۔جس میں حسب عادت اس نے استہزاء ،شعر بازی اور الہامات اور پیشگوئیوں اپر اعتراضات کئے اور بطور چیلنج کہا کہ میری تقریر کے بعد کوئی صاحب جواب دینا چاہیں یا اعتراض کرنا چاہیں تو اجازت ہے۔شیخ عبدالرشید صاحب رضی اللہ عنہ ریس میرٹھ نے جو صحابی تھے۔مجھے کہا کہ کچھ کہو گے۔میں نے کہا ہاں کہونگا۔آپ دعا کریں۔مولوی صاحب کی تقریر کے دوران میں مجھے کچھ مجھ نہیں آیا۔کہ میں کیا کہوں۔میں نے دعا کی کہ یالہی ! تو نے حضرت صاحب کو الہام کیا۔وَجَاعِلُ الذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوَ إِلَى يَوْمَ الْقِيَمَةِ - (64) اس کی تقریر ختم ہونے پر میں کھڑا ہوا۔اور میں نے جو بیان کیا وہ گویا معجزانہ رنگ میں القاء ہوا میں نے کہا کہ ہم پانچ احمدی جلسہ میں ہیں دووہ جنہوں نے حضرت مسیح موعود کے دست مبارک پر بیعت کی۔آپ کی بیعت کے طفیل ہم کو حضرت نبی کریم ﷺ کی زیارت ہوئی اور ہم نے رویا میں دیکھا حضور علیہ السلام حضرت مسیح موعود سے بڑی محبت سے گفتگو فرما رہے ہیں۔پھر دوسری مرتبہ بھی دیکھا اور ہم یہ بات موکد بعذاب قسم کھا کر بیان کرتے ہیں۔اب میرا سوال یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کو صادق ماننے اور آپ کی غلامی میں داخل ہونے کی برکت سے مجھے حضرت نبی کریم ﷺ کی تین مرتبہ زیارت ہوئی۔با بوحمد علی خاں صاحب نے کراچی میں وفات پائی۔اور بہشتی مقبرہ قادیان میں آپ کا کتبہ لگا ہوا ہے۔آپ کراچی میں دفن ہیں۔