اصحاب احمد (جلد 10) — Page 145
145 کہ موضع کریام کے اتنے کثیر افراد بیک وقت قادیان آئے ہوں۔خصوصاً یہ بھی قابل فہم معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں جبکہ سفر کی سہولتیں موجود نہ تھیں اور اتنی اتنی خواتین ساتھ ہوں۔دوسرے یہ کہ ۱۰/۰۳/ ۹ کو یا اس کے قریب اس چھوٹے سے گاؤں سے انیس افراد آئے ہوں۔اور چودہ دن کے تھوڑے سے عرصہ کے بعد وہاں سے تمہیں افراد آئے ہوں۔تیسرے یہ کہ جلسہ سالانہ کے یا اور کسی قسم کے اجتماع کے مواقع بھی نہ تھے علاوہ ازیں ان میں سے جو افرا دزندہ ہیں وہ بھی اس کی شہادت دیتے ہیں اور بیان کرتے ہیں کہ ہم نے یا ہمارے اقارب و بزرگان نے حضرت مسیح موعود کی زیارت کا موقع نہیں پایا۔بلکہ بذریعہ خط بیعت کی تھی چوتھی شہادت آخر پر مذکور ہوگی۔تیسری قسم کی شہادت کی تفصیل درج ذیل ہے:۔فہرست اول (۲۱) چوہدری حسن محمد صاحب ولد نتھو خاں اس وقت چک ۸۸ ج۔ب (تحصیل وضلع لائلپور ) میں زندہ ہیں۔اور ان سمیت نو اقارب کی بیعت اس فہرست میں درج ہے ان کا بیان ہے کہ میری اور میری والدہ صاحبہ کی بیعت تحریری تھی اور اس فہرست میں سے اپنے تایا زاد بھائی چوہدری غلام جیلانی صاحب کے متعلق بھی بتاتے ہیں کہ انہوں نے تحریری بیعت کی تھی۔(۳) چوہدری چراغ محمد صاحب اور ان کے والد عمر بخش نمبردار کے بھائی گل محمد ، اہلیہ گل محمد، ہمشیرگان جنت بی بی اور صاحب نساء گویا چھ افراد کی بیعت اس فہرست میں درج ہے۔چوہدری چراغ محمد صاحب زندہ ہیں اور وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت مسیح موعود کی زیارت نہیں کی انکی ولادت ۱۸۹۵ء کی تھی گویا ۱۹۰۳ء میں بوقت بیعت آٹھ نو سال کی عمر تھی۔(۵۴) چوہدری عبدالرحمن صاحب ولد چوہدری مولا بخش صاحب ( صحابی ) سمیت آٹھ افراد خاندان یعنی والدین۔چچا۔چچا زاد بھائی۔بھائی اور ہمشیرہ کے اسماء اس فہرست بیعت میں موجود ہیں۔چوہدری عبدالرحمن صاحب چک ۸۸ جب تحصیل لائکپور میں زندہ ہیں ، بیان کرتے ہیں کہ یہ بیعت بذریعہ خط تھی۔ان کے بھائی چوہدری عبداللہ صاحب بھی زندہ ہیں ان کا بھی یہی بیان ہے۔فہرست دوم :۔اس میں چوہدری غلام حسن صاحب کے والد چوہدری حاکم خانصاحب اور دادا ( چوہدری بڑھے خانصاحب ) اور دادی کی بیعت بھی اس فہرست میں درج ہے چوہدری غلام حسن صاحب زندہ ہیں اور ان کا بیان ہے کہ یہ بیعت بذریعہ خط ہوئی تھی۔اور دادی صاحبہ کو حضرت مسیح موعود کی زیارت کا موقع