اصحاب احمد (جلد 10) — Page 112
112 رقم ادا فرماتے اور میں قبول کرنے سے انکار کرتا تو فرماتے کہ دکان نہ میرا گھر ہے نہ آپ کا یہ مشترکہ جگہ ہے۔اس لئے میں پیسے دیتا ہوں۔آپ علاقہ میں سلسلہ کے امور کی سرانجام دہی کے لئے تشریف لے جارہے تھے۔تو میں نے ریلوے ٹکٹ کی رقم ادا کر دی اور لینے سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ آپ سلسلہ کے کام کے لئے سفر کر رہے ہیں۔اس لئے یہ حقیر رقم میرے لئے ثواب کا موجب ہوگی یہ کہتے ہوئے مجھے رقم ادا کر دی کہ نہیں۔اس طرح مجھے دوسروں سے خرچ کرانے کی عادت ہو جائیگی۔ایک دفعہ آپ نے اپنی کچھ اراضی کسی مزارع کو چند سال کے لئے چکوٹہ پر دی۔لیکن جلد ہی چکوتہ کی شرح بوجہ اجناس وغیرہ کے نرخ بڑھ جانے کے زیادہ ہو گئی۔آپ کے ایک عزیز نے کسی اور مزارع کو زیادہ شرح پر اراضی دینے کی تحریک کی۔لیکن حاجی صاحب نے اپنے وعدہ کو توڑنا ناپسند کیا۔اور تا اختتام میعاد اراضی اسی مزارع کی تحویل میں رہنے دی۔آپ مہمانوں کی تواضع ان کی حیثیت اور مزاج کے مطابق کرتے جو افراد بہت لمبا عرصہ تک آپ کے پاس قیام رکھتے آپ ان کو اپنے گھر کی طرح سہولت بہم پہنچاتے۔چنانچہ ایک دوست حکیم مظہر شاہ صاحب کے لئے ایک علیحدہ رضائی تیار کر رکھی تھی وہ جب بھی آتے ان کو دیدی جاتی۔آپ اپنے ہمسفر ساتھیوں کا پوری طرح خیال رکھتے اگر کسی راستہ میں کوئی حاجت کے لئے پیچھے رہ جاتا تو آپ کچھ فاصلہ پر رفقاء سمیت ٹھہر کر انتظار کر لیتے تاکہ وہ ساتھ مل جائے۔ایک دفعہ ایک ہمسفر کی لوئی گم ہوگئی تو آپ نے اسے اس کی قیمت دیدی تا کہ وہ ملول نہ ہو۔متعلق اپنے آپ جماعت کی تربیت کا بہت خیال رکھتے تھے۔آپ نے آخری طویل علالت میں میرے منہ ایک عزیز سے دریافت کیا۔آیا میں کریام جاتا رہتا ہوں کیونکہ میں کریام کا سیکرٹری تربیت تھا۔آپ کو علم ہوا کہ جماعت کے دو افراد میں رنجش پیدا ہوگئی ہے آپ نے امرتسر سے مجھے لکھا کہ میں مصالحت کرا دوں۔چنانچہ میں نے مصالحت کرادی۔آپ کا نفس مطمئنہ تھا۔اور شکر خداوندی سے معمور۔باوجود طویل علالت کے آپ کبھی پریشان خاطر نہیں ہوتے تھے جب بھی کوئی پرسش حال کرتا تو پہلے فرماتے ”خدا تعالیٰ کا شکر ہے اور پھر نہایت اطمینان سے اپنا حال بتاتے۔