ارضِ بلال — Page 83
ارض بلال- میری یادیں - فرافینی میں ایک کرایہ پر لی گئی عمارت میں تھی۔مرکز کے ارشاد پر ایک ڈاکٹر مکرم حمید اللہ صاحب شہید اس ادارہ کو چلانے کے لئے تشریف لائے۔( ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے ظالم دشمنان احمدیت کے ہاتھوں کراچی میں جام شہادت نوش کیا ) ڈینٹل سرجری کے افتتاح کے موقع پر علاقہ بھر کے معززین تشریف فرما تھے۔کیروان سے ریجنل کمشنر مکرم آکی بایو صاحب بھی آئے ہوئے تھے۔افتتاحی تقریب ہوئی۔اس میں مختلف مقررین نے اپنی تقاریر میں جماعت احمدیہ کی گیمبیا میں غیر معمولی علمی اور طبی خدمات کی دل کھول کر تعریف کی اور جماعت احمدیہ کے ملک وملت کی تعمیر و ترقی کے منصوبوں کو بہت سراہا۔جب یہ پروگرام اختتام پذیر ہوا اور مہمانان کرام واپس تشریف لے گئے اور تقریب کے اختتام پر ممبران جماعت سامان وغیرہ سمیٹ رہے تھے تو مجھے ایک طرف سے سسکیوں کی آواز آئی۔میں اس طرف گیا تا کہ دیکھوں کہ کون رورہا ہے؟ جب ادھر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ مکرم محمد جونجی دیبا صاحب بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رورہے ہیں۔میں ایکدم پریشان ہو گیا اور پوچھا، خیر تو ہے۔کیا کوئی بری خبر ہے؟ کافی دیر کے بعد انہوں نے اپنے حواس پر ضبط کیا اور بولے؛ آج ہماری اس میٹنگ میں بہت سے لوگوں نے جماعت احمدیہ کے حق میں بڑی لمبی لمبی تقریریں کی ہیں جس میں جماعت احمدیہ کی تعریف و توصیف کے پل باندھ دیئے ہیں اور مجھے اپنا وہ پرانا زمانہ یاد آ گیا جب یہی شہر والے ہم پر پتھر برساتے تھے ہمیں بندر اور خنزیر جیسے ناپاک الفاظ سے یاد کرتے تھے۔لیکن آج اللہ کے فضل سے وہی لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کے لئے رطب اللسان ہیں اور یہ آنسو خدا تعالیٰ کے حضور شکرانے کے آنسو ہیں۔لیکن آج اس تقریب سعید کے دوران ایک حسرت بڑی شدت سے میرے دل میں پیدا ہورہی تھی کہ اے کاش! جماعت احمدیہ فرافینی کے ہمارے ابتدائی جانثار بزرگ امام لامن جینگ وغیرہ آج زندہ ہوتے تو یہ نظارہ دیکھ کر کس قدر خوش ہوتے۔احمدیت کے ان متوالوں کو مخالفین و 83