ارضِ بلال — Page 36
سینیگال، گنی بسادو وغیرہ میں پہنچادیا۔ارض بلال۔میری یادیں وہ خوش نصیب جنہیں گیمبیا میں خدمت کی سعادت نصیب ہوئی خدا تعالیٰ کے فضل سے خلفا ء عظام کے ارشادات کی تعمیل میں بہت سے بھائیوں کو گیمبیا میں مختلف میدانوں میں بطور واقف زندگی یا عارضی وقف کے طور پر خدمت دین کی توفیق ملی۔ہر کسی نے کمال اخلاص اور وفا سے اس کا حق ادا کیا۔ان میں جوان بھی تھے اور بوڑھے بھی تھے لیکن جذ بہ ہر ایک کا جوان تھا۔ایک بزرگ ڈاکٹر صاحب کا جذبہ خدمت دین ایک بزرگ ڈاکٹر صاحب پاکستان سے خدمت دین کے جذبہ سے سرشار گیمبیا تشریف لائے۔ان کا اسم گرامی مکرم ڈاکٹر سید ضیاء الحسن صاحب تھا۔وہ پاکستان آرمی میں برگیڈ میٹر کے اعلیٰ عہدہ پر فائز رہ چکے تھے۔ایک برگیڈیئر کے وسائل ، طرز زندگی اور سہولیات کا اندازہ تو ہم سب کر سکتے ہیں۔خلیفہ وقت کی ایک آواز پر، بڑھاپے کے ایام میں ان سب سہولیات کو خیر باد کہہ کر اکیلے ہی اس میدانِ جہاد میں کود پڑے۔مکرم مولانا امیر داؤ دحنیف صاحب نے انہیں بصے نامی قصبہ میں بھجوا دیا۔بصے کے گرم موسم اور ملک کے آخری کنارے پر ہونے کے بارے میں قبل از میں ذکر کیا جاچکا ہے۔ڈاکٹر صاحب موصوف کا کلینک اور رہائش ایک ہی مکان میں تھے۔یہ مکان کرایہ پر لیا گیا تھا۔اس کے ہمسایہ میں ایک نائٹ کلب تھا جو سر شام اپنے پروگرام شروع کرتا اور صبح تک اس کا شور وغل جاری وساری رہتا۔میوزک اور گانوں کی آواز میں پورے ماحول میں گونجتی رہتیں۔عام حالات میں اس مکان میں سونا ناممکن تھا۔ایک دفعہ کسی دوست نے مکرم ڈاکٹر صاحب سے پوچھا، کیا آپ کو یہ شور وغل پریشان نہیں کرتا؟ ڈاکٹر صاحب کہنے لگے ، اب تو اس قدر عادی ہو گیا ہوں کہ اگر یہ شور وغل نہ ہو تو نیند نہیں آتی۔36