ارضِ بلال — Page 288
ارض بلال۔میری یادیں۔پوچھی تو کہنے لگا میں نے اللہ میاں سے مالی کشائش کی دعا کی تھی اور ساتھ وعدہ کیا تھا اے اللہ اگر تو مجھے مالی وسعت عطا کریگا۔تو میں ایک بہت بڑا مدرسہ بنادوں گا لیکن ایک درخواست ہے کہ جب تک یہ مشن مکمل نہ کر لوں مجھے زندہ رکھنا۔پھر خدا نے میری دعا سن لی اور بہت سارا مال دیا۔اب میں نے بھی اپنا وعدہ پورا کرنا شروع کیا ہوا ہے اور کافی سارا کام کر دیا ہے لیکن ایک حصہ چھوڑا ہوا ہے کیونکہ خدا سے وعدہ ہے کہ جب تک مکمل نہ کروں تو وہ مجھے زندہ رکھے گا۔دیکھوا بھی تو میں جوان ہوں۔اگر یہ کام مکمل ہو گیا تو ؟ آسمانی ضیافت اگست 1992ء کی بات ہے ہم جملہ افراد خانہ رخصت پر پاکستان جارہے تھے۔گیمبیا سے لندن گئے جلسہ میں شرکت کی اس کے بعد جرمنی عزیزوں کو ملنے کیلئے چلے گئے۔جرمنی سے واپسی فلپائن ائیر لائن سے ہوئی جو اس زمانہ میں پاکستانی بھائیوں کی سب سے زیادہ محبوب ائیر لائن ہوا کرتی تھی کیونکہ یہ ائیر لائن سب دیگر ائیر لائینز سے زیادہ ستی تھی۔لیکن اس کے جہازوں کی حالت کافی خستہ اور مخدوش تھی۔ہم لوگ علی الصبح فرینکفرٹ ائیر پورٹ پہنچے۔فلائٹ صبح 8 بجے کے قریب تھی۔ائیر پورٹ پہنچنے پر معلوم ہوا کہ جہاز دو گھنٹے لیٹ ہے اس لئے ہر مسافر 8 مارک فی کس کے حساب سے ریستوران میں جا کر ناشتہ وغیرہ کر سکتا ہے۔ہمارے پاس 7 ٹکٹیں تھیں اس لئے اس قدر وافر سامان خوردونوش مل گیا۔ہمارے ساتھ الوداع کرنے والے عزیز بھی اس آسمانی ضیافت سے مستفیض ہوئے۔بعد ازاں جہاز کی آمد پر لندن پہنچے۔اب یہاں سے گلف ایئر لائن کے ذریعہ سے شام کے قریب اگلی فلائٹ تھی۔سامان وغیرہ چیک ہو گیا۔بورڈنگ کارڈمل گئے۔اب ہم جہاز پر سوار ہونے کے اعلان کے انتظار میں تھے کہ یہ اعلان ہوا کہ گلف ائیر لائن کی فلائٹ برائے شارجہ فنی خرابی کے باعث 2 گھنٹے لیٹ ہے۔جملہ معزز مسافرین کی خدمت میں التماس ہے کہ ایئر پورٹ پر موجود 288