ارضِ بلال — Page 229
ارض بلال۔میری یادیں باجرے کے ٹانڈوں سے تیار شدہ احمدی بھائی کا گھر جن دنوں میں گیمبیا میں فرافینی کے مقام پر رہتا تھاسینیگال میں تبلیغ کا کام میرے سپرد تھا۔سینیگال کی گورنمنٹ پاکستانیوں کو ویزہ نہ دیتی تھی اس لیئے میں سینیگال کی بارڈر پولیس کی مدد سے سینیگال میں داخل ہو جاتا تھا اور پھر دو دو ہفتے ادھر ہی گزارتا تھا، کیونکہ بار بارسرحد پار کرنا بہت مشکل کام تھا۔پھر اکثر دیہات میں ہی راتیں گزارنی پڑتی تھیں۔شہروں میں پولیس کا خطرہ رہتا تھا۔چند دفعہ تو پولیس نے پکڑ لیا مگر خدا تعالیٰ نے ہر بار معجزانہ طور پر بچالیا۔کو نخ ریجن میں ایک گاؤں چاکو ہے۔اس کے قریب ایک غریب سا احمدی ڈمبا جالو رہتا تھا۔اس نے گاؤں سے باہر گھاس پھونس اور باجرے کے ٹانڈے جوڑ کر اپنی رہائش کے لئے دو کمرے بنائے ہوئے تھے۔میں جب بھی اس کے علاقہ میں دورہ پر جاتا تھا اس کے ایک کمرہ میں سوجا تا تھا۔کیونکہ اس علاقہ میں پولیس کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا تھا۔وہ بے چارہ بہت غریب آدمی تھا۔بہت ہی مخلص احمدی تھا۔آج بھی اس کی مہمان نوازی بہت یاد ہے جو اکثر باجرہ اور دہی ہوتی تھی۔میں بھی اس کی حسب توفیق خدمت کر دیتا تھا۔اللہ تعالیٰ اس کو اجر عظیم عطا فرمائے۔آمین۔داؤد باہ کا دیوار پر اعلان احمدیت سینیگال کی کونخ ریجن میں ایک چھوٹا گاؤں سار گوری ہے۔وہاں ایک عربی استاذ رہتے تھے۔جن کا نام استاذ داؤد باہ صاحب ہے۔ان کا تعلق قادریہ فرقہ سے تھا۔ایک دفعہ ہمارے ایک معلم مكرم الحاج جان صاحب انہیں تبلیغ کی غرض سے ان کے ہاں گئے۔مگر انہوں نے اپنے سنے سنائے علم کی بنا پر ان کی بات سننے سے انکار کر دیا۔اس پر معلم صاحب نے انہیں جماعت کی ایک عربی کتاب القول الصریح پڑھنے کو دی۔مکرم داؤد باہ صاحب نے کتاب لے لی اور پھر اس کا بنظر غور مطالعہ کیا۔اللہ تعالی نے اسی کتاب کو ان کی ہدایت اور راہنمائی کا سبب بنا دیا۔( یہ کتاب محترم مولانا حاجی نذیر احمد صاحب مبشر مبلغ سلسلہ عالیہ احمدیہ کی ایک بہت ہی مفید کتاب ہے۔جس میں 229