ارضِ بلال — Page 227
ارض بلال- میری یادیں - جب پرائمری سکول کا طالب علم تھا، میری کلاس میں کچھ عیسائی طالبعلم تھے اور کچھ مسلمان تھے۔میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ مسلمان بچے ہیں یا عیسائی، کیونکہ میرے پاس اس کے علاوہ کوئی دلیل نہیں تھی کہ میرے والدین، دوست اور محلے والے مسلمان ہیں۔جب میں کالج میں گیا تو وہاں بھی یہ سوال میرے ذہن میں ہمیشہ سرگرداں رہا۔اس کے بعد میں یونیورسٹی میں گیا۔تو وہاں بھی کچھ عیسائی طالب علم ساتھی تھے۔لیکن اس سوال کا جواب با وجود چاہنے کے بھی نہ مل سکا کیونکہ جب کبھی کسی امام سے اس کے بارے میں پوچھا۔تو انہوں نے بس یہی کہا کہ اس قسم کے سوال نہیں کرتے ، اس سے انسان کافر ہو جاتا ہے۔اب جب میں نے یہ کتاب مطالعہ کی ہے۔اس کتاب نے مجھے اسلام کی صداقت کے بہت سے واضح اور مضبوط دلائل دیئے ہیں۔جس کی وجہ سے میں اب علی وجہ البصیرت یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں ایک سچے مذہب کا پیروکار ہوں۔حضرت مصلح موعودؓ کا اکناف عالم پر علمی میدان میں بھی بہت بڑا احسان ہے۔اللہ تعالیٰ نے دشمن کا دل موم کر دیا ایک دفعہ ڈاکار میں ایک تربیتی کلاس کا اہتمام کیا گیا۔اس میں طریق کار یہ تھا کہ بعض اساتذہ اپنے اپنے علاقہ سے غیر از جماعت دوستوں کو ساتھ لے کر آتے تھے جو ایک سے دو ہفتے تک ہمارے پاس قیام کرتے اور ان کے ساتھ سوال و جواب ہوتے اور تبلیغی اور تربیتی تقاریر کے علاوہ اور کئی پروگرام کئے جاتے جس کے نتیجہ میں اللہ کے فضل سے بہت اچھے نتائج ملتے تھے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک نوجوان موریطانیہ روسو کے علاقہ سے سینیگال کے قصبہ رشائول میں اپنے عزیزوں کو ملنے آیا۔(سینیگال کے کچھ لوگ پرانے وقتوں سے موریطانیہ میں آکر آباد ہو چکے ہیں۔اس لئے اب ان کی عادات و خصائل ، مذہبی رجحانات وغیرہ بھی عربوں کی طرح بن چکے ہیں۔ان میں بھی خاصی شدت پائی جاتی ہے، کیونکہ یہ عرب بھی سخت متشد دلوگ ہیں۔نیز موریطانین گورنمنٹ کی سختی کی بنا پر احمدی موریطانیہ میں نہیں جا سکتے۔اس لئے ان لوگوں کا جماعت سے کوئی 227