ارضِ بلال — Page 196
۔میری یادیں امام عرفان تراول سالیکینی کا گاؤں ملک بھر کے بڑے دیہات میں شمار ہوتا ہے۔یہاں بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک بہت ہی مخلص جماعت قائم ہے۔اس جماعت نے بہت زیادہ مخالفت کے ادوار دیکھے ہیں لیکن اللہ کے فضل سے یہاں سب احمدی نہایت ثابت قدمی سے اپنے ایمانوں پر قائم رہے۔آج کل بانجول کی جماعت کے بہت سے دوست اسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔اس جماعت کی روح رواں مکرم امام عرفان تر اول صاحب ہیں۔عرفان منڈ نگا زبان میں عالم کو کہتے ہیں۔سالیکینی جماعت کے قیام میں انکی خدمات بہت نمایاں ہیں۔بہت ہی مخلص اور جماعت کے جاں نثار بزرگ ہیں۔منڈنگا میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے موضوع پر نظمیں لکھی ہوئی تھیں۔ہر جلسہ سالانہ کے موقع پر انکی نظمیں پڑھی جاتی تھیں جسے حاضرین بڑے شوق و ذوق سے سنتے تھے۔اس جماعت نے جماعت کے بہت سے خدام پیدا کئے ہیں۔مکرم شیخ عمر دیبا صاحب سابق صدر مملکت داؤد جوارا صاحب کے نائب صدر سالیکینی گاؤں کے ایک شریف دیبا صاحب تھے جنہوں نے اپنے سیاسی اختلافات کی بنا پر داود جوار اصاحب کی حکومت سے الگ ہو کرا اپنی سیاسی پارٹی بنائی تھی۔ان کے چھوٹے بھائی مکرم شیخو دیبا صاحب خدا کے فضل سے طالب علمی کے زمانہ میں ہی احمدی ہو گئے۔سارا خاندان ہی جماعت کا مخالف تھا مگر یہ نوجوان اکیلا ہی راہ صداقت پر ڈٹا رہا۔پھر خدا کے فضل سے انہیں جماعت کی مختلف حیثیتوں میں خدمت کرنے کی توفیق ملی۔مجلس عاملہ کے ممبر کے طور پر، ایڈمنسٹریٹر احمد یہ ہسپتال کے علاوہ اور بھی بہت سے جماعتی عہدوں پر کام کرنے توفیق ملی۔آج کل ان کا ایک بیٹا عبداللہ دیبا جامعہ احمدیہ انگلستان میں زیر تعلیم ہے۔اللہ تعالیٰ اس خاندان کو جماعت کی نمایاں اور مقبول خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔196