عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان

by Other Authors

Page 4 of 136

عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 4

لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِّنْ رَبِّهِ) (النعام : ۳۸)، لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ آيَةً مِّنْ رَّبِّهِ) (الرعد :۲۸)، لَوْلَا يَأْتِينَا بِآيَةٍ مِّنْ رَّبِّه (طه : ١٣٤)۔یعنی یہ کوئی نشان کیوں نہیں لے کر آتا؟ اور اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشان کیوں نہیں نازل کیا جاتا؟ یہ اپنے خدا کی طرف سے کوئی نشان تو لا کے دکھائے، پھر ایمان لانے کا سوچیں گے۔لیکن حقیقت یہی تھی اور آج تک یہی ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا کہ: ﴿وَمَا تَأْتِيهِمْ مِنْ آيَةٍ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِمْ إِلَّا كَانُوا عَنْهَا مُعْرِضِينَ) (الأنعام ٥)۔یعنی نشانات تو آتے ہیں لیکن منکرین کا وتیرہ یہی ہے کہ جب بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی نشان دکھایا جاتا ہے تو یہ اس سے منہ پھیر کر فورا انکار کر دیتے ہیں۔بالکل ایسے ہی مخالفین نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس مذکورہ بالا عظیم نشان اور معجزہ کو بھی ماننے سے انکار کر دیا اور اس کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی۔چنانچہ کبھی کہا کہ اس کو تو عام عربی زبان بھی نہیں آتی کجا یہ کہ اعلیٰ درجہ کی زبان کا دعویٰ کیا جائے۔کبھی < حضور علیہ السلام کی عربی تحریرات میں سے اپنی دانست میں 4