عربی زبان میں خداداد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان — Page 109
نہایت ضعیف عربی لکھی ہے اور کبھی اپنی بات کے ہی بر عکس یہ کہہ دیا کہ ان کتب میں بہت اچھے اچھے ادبی فقرات اور بلیغ تراکیب ہیں اس لیے ہو نہ ہو یہ کتب پرانی کتب سے سرقہ کر کے لکھی گئی ہیں، اور جب یہ بات بھی نہ بنی تو انہوں نے یہ کہہ دیا کہ کوئی شامی یا عربی ان کو یہ کتب لکھ کر دیتا ہے۔ان سب باتوں کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا خوب جواب دیا۔فرمایا: ” اس خیال میں میرے مخالف سراسر سچ پر ہیں کہ یہ اس شخص کا کام نہیں کوئی اور پوشیدہ طور پر اس کو مدد دیتا ہے سو میں گواہی دیتا ہوں کہ حقیقت میں ایک اور ہے جو مجھے مدد دیتا ہے لیکن وہ انسان نہیں بلکہ وہی قادر و توانا ہے جسکے آستانہ پر ہمارا سر ہے۔“ (اعجاز المسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲) نیز فرمایا: انْظُرْ إِلَى أَقْوالِهِمْ وَتَناقُضِ سَلَبَ العِنادُ إصابَةَ الْآرَاءِ طَوْرًا إِلَى عَرَب عَـوْهُ وَتَارَةً قَالُوا كَلامٌ فَاسِدُ الإِمْلَاءِ هَذَا مِنَ الرَّحْمَن يَا حِزْبَ العِدا لَا فِعَلَ شَامِيٌّ وَلَا رُفَقَائِي الاستفتاء، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۷۲۶) 109