عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات

by Other Authors

Page 95 of 113

عقائدِ احمدیت اور اعتراضات کے جوابات — Page 95

۹۵ تم طرف خدا تعالیٰ کے غیر محدود علم کی طرف توجہ پیدا ہو اور دوسری طرف زبانوں ا کے اصل سرچشمہ یعنی عربی زبان سے عاشقانہ تعلق پڑھے لہذا اختلاف الالمنہ کو تمسخر اور مذاق کا موجب بناتا کسی عارف کا کام نہیں ہو سکتا مثلاً قرآن مجید میں انسان کو قتورًا (کنجوس) کہا گیا ہے۔علامہ سید سلیمان ندوی نے ارض القرآن میں تحقیق کی ہے کہ سہی نام حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک حرم محترم کا تھا جس کے معنی عبرانی میں معطر کے ہیں۔حضرت علامہ قسطلانی نے آنحضرت کے جو غیر عربی نام مواہب اللدنیہ، جلدا ۱۳۹۵-۲۲۷ میں لکھے ہیں ان میں " المنحنا " " مازمان " بھی بتایا ہے۔مصری فاضلی مورخ علامہ الحارج کرارہ کی تصنیف " تاریخ حرمین شریفین “ میں لکھا ہے کہ مدینہ کا ایک نام " تند و تند " بھی ہے۔مشہور اہل قلم مولانا محمد عبدالله صاحب منہاس کی تحقیق یہ ہے کہ چینی زبان میں قرآن کو " نان چین" آیت کو چان" رکوع کو چھٹے ، اسلام کو " ہوئے بچاؤ ، مسلمان کو چھینچے " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو " چوٹی سمی رائے منتھازان ، خدا کو شھنشان" فرشتہ کو ہو سو ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خو مور کہتے ہیں۔ہے اسی طرح پاکستان کے ایک سکالر جناب ڈاکٹر غلام جیلانی برینی نے اپنی کتاب " ایک اسلام » ۱۳۳۰ - ۴۷۴ میں مہندؤوں کی کتاب کلنگی میران کے بارہویں یا سب سے آنحضرت کے ظہور قدسی کی بیشارات لکھی در ۵ ۵۲۰ طبع دوم مصنفہ محمد عبد اللہ منہاس ناشر دی سٹینڈرڈ ایجنسی ایجرٹن روڈ امرتسر ضروری ۱۹۳۹ ذی الحجہ مشتراه سے پیام امین " " "