عقائد احمدیت

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 16

عقائد احمدیت — Page 7

اسی قدر اس میں سے قیمتی جواہرات نکلتے چلے آتے ہیں بلکہ کانوں سے بھی بڑھ کر کیونکہ اُن کے خزینے ختم ہو جاتے ہیں مگر اس کلام کے معارف ختم نہیں ہوتے۔یہ کلام ایک سمندر کی طرح ہوتا ہے جس کی سطح پر عبر تیرتا پھرتا ہے اور جس کی نئہ پر موتی بچھے ہوئے ہوتے ہیں۔جو اس کے ظاہر پر نظر کرتا ہے اس کی خوشبو کی مہک سے اپنے دماغ کو معطر پاتا ہے اور جو اس کے اندر غوطہ لگاتا ہے دولت علم وعرفان سے مالا مال ہو جاتا ہے۔یہ کلام کئی قسم کا ہوتا ہے کبھی احکام وشرائع پر مشتمل ہوتا ہے کبھی مواعظ و نصائح پر کبھی اس کے ذریعے سے علم غیب کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور کبھی علم روحانی کے دفینے ظاہر کئے جاتے ہیں کبھی اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اپنی خوشنودی کا اظہار کرتا ہے اور کبھی اپنی ناپسندیدگی کا علم دیتا ہے کبھی پیار اور محبت کی باتوں سے اس کے دل کو خوش کرتا ہے، کبھی زجر و توبیخ سے اُسے اس کے فرض کی طرف متوجہ کرتا ہے کبھی اخلاق فاضلہ کے بار یک راز کھولتا ہے کبھی مخفی بدیوں کا علم دیتا ہے۔غرض ہم ایمان رکھتے ہیں کہ خدا اپنے بندوں سے کلام کرتا ہے اور وہ کلام مختلف 7