عقائد احمدیت — Page 14
- اگر وہ ان کو اپنی رحمت کا ملہ سے بخش نہ دے ایک ایسے مقام پر رکھے جائیں گے جسے جہنم کہتے ہیں اور جس میں آگ اور شدید سردی کا عذاب ہوگا جس کی غرض محض تکلیف دینا نہ ہوگی بلکہ ان میں ان لوگوں کی آئندہ اصلاح مد نظر ہوگی اُس جگہ سوائے رونے اور پیٹنے اور دانت پینے کے ان کے لئے کچھ نہ ہو گا حتی کہ وہ دن آجائے جب اللہ تعالیٰ کا رحم جو ہر چیز پر غالب ہے ان کو ڈھانپ لے اور يَأْتِي عَلَى جَهَنَّمَ زَمَانٌ لَيْسَ فِيْهَا أَحَدٌ وَنَسِيْمُ الصَّبَا تُحَرِّفُ اَبْوَابَهَا کا وعدہ پورا ہو جائے۔(معالم التنزيل في التفسير والتاويل مؤلفه ابى محمد الحسين بن مسعود الجزء الثالث صفحه ۲۴۳ مطبوعہ دارالفکر میں اس روایت کے الفاظ یہ ہیں اا - لياتين على جهنم زمان ليس فيها احد و ذلك بعد ما يلبثون احقابا) اور ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے نبیوں اور اس کے فرشتوں اور اُس کی کتابوں پر ایمان لانے والے ہیں اور اس کے احکام پر جان ودل سے ایمان لاتے ہیں اور انکسار اور عاجزی کی راہوں پر چلتے ہیں اور بڑے ہو کر چھوٹے بنتے ہیں اور امیر ہو کر غریبوں کی سی زندگی بسر کرتے ہیں اور اللہ کی مخلوق کی خدمت گزاری کرتے ہیں اور اپنے آرام پر لوگوں کی راحت کو مقدم 14