انوار خلافت — Page 163
۱۶۳ اصل میں ایک ہی تھا اور اس کے اصول اور فروع بھی ایک ہی تھے لیکن جب مختلف علماء نکلے اور انہوں نے قرآن کریم کی آیات کے مختلف معنی کئے تو کچھ کچھ لوگ ہر ایک کے ساتھ شامل ہو گئے۔اس لئے کوئی مالکی بن گیا کوئی شافعی، کوئی حنبلی بن گیا، کوئی حنفی کوئی شیعہ بن گیا کوئی سنی پس جس طرح اسلام کے سب فرقوں میں یہ بات پائی جاتی ہے اسی طرح تمام مذاہب میں بھی یہی بات ہے۔جس وقت بنی نوع انسان پیدا ہوئے تھے اس وقت خدا تعالیٰ نے ایک ہی مذہب پر سب کو قائم کیا تھا اور سب کا ایک ہی مذہب تھا۔لیکن جب یہ لوگ اپنے مذہب میں سست ہو گئے اور دنیا میں پڑ کر خدا تعالیٰ کو بھول گئے تو خدا کی طرف سے ان میں ایک نبی مبعوث ہوا۔اس نے ان کو کہا کہ آؤ میں تمہیں خدا کی طرف لے جاؤں اور تمہاری سستی اور کاہلی دور کر کے تمہیں پاک وصاف کر دوں۔اس وقت کچھ لوگ تو ایسے نکلے جنہوں نے ضد، تکبر اور عزت کے گھمنڈ کی وجہ سے اسے قبول نہ کیا اس لئے ان کی دو جماعتیں بن گئیں۔ایک وہ جس نے دنیا کے لحاظ سے سب سے پہلے آنے والے نبی کو قبول کیا اور دوسری وہ جس نے قبول نہ کیا۔اور اس طرح اس نبی کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں میں فرق ہو گیا۔لیکن وہ لوگ جنہوں نے اس نبی کو مانا تھا ان میں آہستہ آہستہ کمزوریاں، بدیاں اور برائیاں آنی شروع ہوگئیں۔اور ان میں سے کچھ عرصہ کے بعد ایسے لوگ پیدا ہو گئے جو دین میں بہت کمزور تھے اس لئے کچھ مدت کے بعد ان کی حالت بدل گئی۔اور وہ ویسے نہ رہے جیسے نبی کے زمانہ میں تھے۔بلکہ دین سے بے بہرہ ہو گئے اس لئے ایک اور نبی آیا اور اس نے آکر سب کو اپنی طرف بلایا لیکن اس کو پہلے نبی کے کچھ ماننے والوں نے اور کچھ نہ ماننے والوں نے قبول کیا۔اس وقت تین مذاہب کے لوگ ہو گئے ایک وہ جنہوں نے پہلے نبی کو نہ مانا تھا اور دوسرے کو بھی نہ مانا دوسرے وہ جنہوں نے پہلے نبی کو تو مان لیا تھا مگر دوسرے کو نہ مانا تھا اور تیسرے وہ جن میں کچھ ایسے شامل تھے جنہوں نے پہلے نبی کو مانا تھا۔اور کچھ عرصہ تو یہی تین