انوار خلافت — Page 161
۱۶۱ تھا اس کے لئے میں نے نہایت کوشش کے ساتھ حالات کو جمع کیا ہے۔اس سے پہلے کسی نے ان واقعات کو اس طرح ترتیب نہیں دیا۔پس آپ لوگ ان باتوں کو سمجھ کر ہوشیار ہو جائیں اور تیار رہیں۔فتنے ہوں گے اور بڑے سخت ہوں گے ان کو دور کرنا تمہارا کام ہے۔خدا تعالیٰ تمہاری مدد کرے اور تمہارے ساتھ ہو اور میری بھی مدد کرے اور مجھ سے بعد آنے والے خلیفوں کی بھی کرے اور خاص طور پر کرے کیونکہ ان کی مشکلات مجھ سے بہت بڑھ کر اور بہت زیادہ ہوں گی دوست کم ہوں گے اور دشمن زیادہ۔اس وقت حضرت مسیح موعود کے صحابہ بہت کم ہوں گے۔مجھے حضرت علی کی یہ بات یادکر کے بہت ہی درد پیدا ہوتا ہے۔ان کو کسی نے کہا کہ حضرت ابو بکر اور عمر کے عہد میں تو ایسے فتنے اور فساد نہ ہوتے تھے جیسے آپ کے وقت میں ہورہے ہیں۔آپ نے اسے جواب دیا کہ اوکم بخت! حضرت ابوبکر اور عمر کے ماتحت میرے جیسے شخص تھے اور میرے ماتحت تیرے جیسے لوگ ہیں۔غرض جوں جوں دن گزرتے جائیں گے حضرت مسیح موعود کے صحبت یافتہ لوگ کم رہ جائیں گے۔اور آپ کے تیار کرده انسان قلیل ہو جائیں گے۔پس قابل رحم حالت ہوگی اس خلیفہ کی کہ جس کے ماتحت ایسے لوگ ہوں گے۔خدا تعالیٰ کا رحم اور فضل اس کے شامل ہو اور اس کی برکات اور اس کی نصرت اس کے لئے نازل ہوں جسے ایسے مخالف حالات میں اسلام کی خدمت کرنی پڑے گی۔اس وقت تو خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ حضرت مسیح موعود کے بہت سے صحابہ موجود ہیں۔جن کے دل خشیت الہی اپنے اندر رکھتے ہیں۔لیکن یہ ہمیشہ نہیں رہیں گے۔اور بعد میں آنے والے لوگ خلیفوں کے لئے مشکلات پیدا کریں گے۔میں خدا تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ خدا آنے والے زمانہ میں اپنے فضل اور تائید سے ہماری جماعت کو کامیاب کرے اور مجھے بھی ایسے فتنوں سے بچائے اور مجھ سے بعد میں آنے والوں کو بھی بچائے۔آمین