اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 592
592 17 موقت سنا جائے تاکہ کل اگر ان کے خلاف نیل دینے کے لئے ہم نے اس سے پوچھا کہ کیا حضروری ہے اب غیر مسلم کی تعریف کر د یعنی جو عقیدہ ختم نبوت کے افکار سے کافر ہوتا ہے اس کی تعریف کرو کر دہ ہو ابو کو حضرت عمر، حضرت عثمان غنی اور حضرت علال کر دیا جائے تو وہ دنیا میں اور بیرونی ممالک ہیں یہ نہ سے کسی نے یہ مقام حاصل کیا تو نہیں ، اور عیش ہیں تو ہم نے اس بارے میں فارمولہ تیار کیا کہ جو کہیں کہ ہم کو بلائے بغیر اور موقف سنے بغیر ہا ہے شخص اپنے نئے نبوت کا دگوئی کر سے دو کافر ہے علاوہ فیصلہ کر دیا گیا ہے۔بطور اتمام حجت کے ان ممبر اسمبلی شیعہ تھے تو ان کے معاشرہ کے نئے میں نے مرزا ناصر سے پوچھا کہ اس مقام کو حضرت حسن وہیں نہیں جو یہ عقیدہ رکھے کہ کوئی اور نبی بھی بن سکتا کا موقف سنا ہمارے لئے ضروری تھا۔اس لئے ان کو بلایا گیا جب انہوں نے اپنے نے حاصل کیا، تو انہوں نے کہا کہ نہیں گویا یہ اسلام ہے وہ بھی کافر ہے۔بیانات پڑھے تو ان پر تیرہ دن بجٹ ہوئی۔گیارہ دن سرورا تا سر پر اور دو دن صدر الدین پر جیتا۔ہوئی میں شبہ نہیں کہ جب انہوں نے اپنا بیان پڑھا نم که جوان کو نبی یا مذہبی پیشوا تسلیم کرے وہ ہمیں ایک ہی شخص کو ملا ہے۔ہم نے کہا کہ مرزا کے کافر ہے ، ترمیم نیست وقعہ میں جو اقلیتی فرقوں ملک کوئی آپی کا ہی نہیں۔ہم نے کہا کہ اس کے معنی کو شمار کیا گیا ہے۔ہندو، سکھ، عیسائی، پارسی ادوات ستر سال میں کوئی اتنی نہیں آیا تو کہا نہیں کیا قیامت جھوٹ کاسٹ نہیں تو ہم نے کہا کہ ان کا بھر لیکر تو مسلمانوں کے باہمی مشکلات سے فائدہ اٹھایا اور یہ ہیں کہ یہ لوگ مرزا کو خلفاء راست دین اور حضرت یہ ثابت کیا کہ فلاں فرقے نے تلان پر کفر می فتوسل حسن و حسین سے کسی مرزا کو افضل سمجھتے ہیں۔تو ہم دیا ہے، اور فلان نے تعمال کی تکفیر کی ہے۔مسار انور سے نے مرزا کے شمائلہ سے کو کے باہمی اختلات کو لیکر اسمیوں کے ممبران کے ولی ہیں کہ مرزا کو اس میں اضافہ کرد ، ہماری گورنمنٹ اس کی مخالفت کر رہی تھی چنانچہ اس کے لئے ہم نے سیٹو معنی تو میر صاحب سے ملاقات کی اور میٹنگ کی تو بھٹو صاب ہونگر فرق یہ نے کہا کہ جب انہیں غیر مسلم کہا گیا ہے تو آپ ہم نے کہا کہ یہ تو ایک کلیہ اور دفعہ کے تحت غیر مسلم کہا گیا ہے۔لیکن کو اس کا ہو مطالبہ ہے وہ ان کے میں یہ بات بیٹھا رہی کہ مولویوں ہم ہی صرف یہی ہے ہے کہ ہم حضور اکرم کو خاتم ان نے میں آپ سزا کو ان کے نام لینے کی کیا ضرورت ہے تو اس سے کروہ کفر کے فتوے دیتے ہیں۔یہ کوئی ایسا تو نہیں کو خاتمہ نہین سمجھتے ہوئے کے قائل تم سبی جو کہ صرف آنا دیا نیوں سے متعلق ہو۔یہ انہیں ناشر ہو، تو وہ اس سے ہو گھل گئے اور کہنے لگے کہ وہ دیا۔اس میں شک نہیں کہ سمبران اسمبلی کا ز مین ہم اسے کچھ نہیں دینی مرزا غلام احمد تو ہم نے کہا آخر وہ کچھ بارہ میں مخصوص ہے کہ ان کو کافر کہا جائے۔موافق نہیں تھا بلکہ ان سے متاثر ہو چکا تھا تو ہی ہے تھے تو سہی تو انہوں نے بار بار کیا کہ وہ کچھ نہیں تھے تو کوئی بحث کے بعد اس نے تسلیم کیا تو ہم نے کہا کہ پریشان تھے۔چونکہ ارکان اسمبلی کا ذہین بھی متا بلکہ وہ کامل اتباع سے حضور کریم کی بات میں فنا دستور میں چھوٹ کاسٹ اینڈ مونالی لکھی۔بریکیٹ ہو چکا منا اور ہمارے ارکان امیلی دینی مزاج سے مبی تھے اور ان کے تمام اوصاف حضور اکرم والے اور سان میں لاہوری گروپ اور گروپ ھو، پیرزاد لکھو عالیت نہ تھے اور خصوصا جب اسمبلی حال میں مرزان امر تھے ، تو ہار مبر اگر چہ ہے عمل تھے مگر بحیثیت نے کہا کہ ان کو احمد کی لکھو۔ہم نے کہا کہ وہ احمدی کیا تو نہیں پہنے ہوئے اور شلوار و شروانی میں منہوس مسلمان ہونے کے یہ بات تو برداشت نہیں کر سکتے ہیں ہی نہیں ہمران ہم ہی نہیں کرتے پڑھی پکڑی نہ لگائے ہوئے تھا اور سفید ڈاڑھی تھے اور ہم نے سوال کیاکہ مرزا جو کچھ کہتا ہے وہو گی کیونکہ وہ تو و منشی آبرسول یانی من بعدی تھی کو ممبروں نے دیکھ کر کیا گیا یہ مشکل کافر کی ہے۔انی ہے اور حقیقت ہے اس میں شک نہیں انہوں سے اسمه احمد ! سے تعبیر کرتے ہوئے اور جب وہ میان پڑا تھا تو قرآن بیند کی آنہیں پینا نے کہا ان چونکہ ان کو معلوم تھا کہ ان کے پاس والے اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں تو پیر زادہ نے کہا ه در جب حضوراکرم معلم تا این تور دو شریف میں جس میں مرزا نے اپنی بات کو بھی کہا ہے، تو اب کہ ان کو آئین میں احمدی لکھ کر بریکٹے ہیں لاجوردی پڑھتا کہ کو آیات سے ممبر مجھے گھور گھور کر دیکھتے مہم تھے ان کتابوں سے یہ حوالہ دیا کہ مرزا لکھتے ہیں کہ پا کا دیانی لکھو تو ہم نے اس سے بھی انکار کیا۔تھے کہ یہ قرآن اور رسول کریم کے نام کے ساتھ دور جو شخص مجھ پر ایمان نہیں لانا چاہیے اس نے مجھے نہ دیکھا میں نے کہا اس کا معنی تو یہ ہیں کہ ہم نے بھی۔شرایت پڑھنا ہے اور تم اسے کافر کہتے ہو اور اسن ہو اور نہ میرا نام سنا ہو تو وہ کافر ہے۔تو ہم نے انہیں احمدی تسلیم کر لیا تو کمیٹی کے کچھ مہروں نے۔رسول کہتے ہیں اور پراپیگنڈے کے لحاظ سے ہیں کہا کہ کیا یہ درست اور صحیح ہے تو انہوں نے کہالاں اس بارہ میں ان سے اتفاقی راستے کیا اور کچھ ہے۔مشہور ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو مسلمان کیسے وہ سا ہے یہ صحیح ہے اس میں ضلعی کا کوئی احتمال نہیں ہے۔کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں آتا تو میں نے انہیں جا ہے تو جب وہ مسلمان ہونے کا کوئی کرتا ہے تو تو میر سمجھے کہ تو ہمیں کافر کہتے ہیں۔اور ہم ان کے علیحدہ کمرے میں سمجھایا کہ دیکھو میں قانون دان تو نہیں کیا حتی ہے کہ آپ ان کو کافر کہیں تو ہم اللہ مسلمان ہونے کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں نہیں ہوں لیکن مجھے معلوم ایسا ہوتا ہے کہ جو بات کھائی سے دست بدعا تھے کہ اسے مقلب القلوب یہاں مہروں کا زمین بدل اور وہ ان کے مخالف ہو گئے بر سیٹ میں لکھی جاتی ہے وہ دستور کا حصہ نہیں۔ال دلوں کو پھیر رہے۔اگر تو نے بھی ہماری امداد نہ کریں کیونکہ انہوں نے مرزا پر تو ایمان نہیں لایا تھا۔ہوتی۔بریکٹ میں تو بطور وضاحت کے لکھا جاتا تو یہ مسئلہ قیام قیامت تک اسکی مرحلہ میں رہ چانچ کہوں دبیاں سامعین نے کہلے لائے ، تو انہوں نے کہا کہ ہے تو انہوں نے کہا کہ اب پھر کیا لکھیں تو ہیں میں نہیں ہوا لی کہ میں اتنا پریشان کر بعض اوقات ، اگر ان کو ہم روٹ دینگے تو گویا ہم اپنے کفر پر والے نے کہا کہ ہے مکمو د فانور آن روی مرزا غلام احمدا یان نا مجھے رات کے تین چار بجے تک نیند نہیں آتی تھی دیں مجھے۔اور بریکٹ میں لکھو کہ قادیانی مینڈی مہوری تو میاں جب ان کے بیانات کے فورا بعد جماع شروع ہوئی اللہ تعالی نے مدد فرمائی اور محمد اللہ یہ مسکر میں پیر زادہ نے یہ حربہ استعمال کیا اور کہا کہ نام کی آرمین کر وہ جنت میں ایسی باتیں کرتے کہ مہران کے فین ہوگیا اور دستور میں ترمیم کرنی پڑی یہاں چارہی ہیں میں ضرورت نہیں ہے۔ہم نے کہا بوقت ضرورت فوری طور پر منتقل ہو گئے مثل ہم نے ان سے پوچھا ہو میں پہلی ترمیم میں ہم نے واک آدھے کیا۔ہوتی ہے۔جیسے تغیر علی چنارج اور تاریخ اسلام میں کہ تم مرزا کو کیا کہتے ہو۔انہوں نے کہا کہ وہ اتنی بھی دوسری ترمیم مسئلہ ختم نبوت کے بارے میں تھی حضور اکر یہ علم کا نام ہے۔تو پیر زادہ نے دوسرا ہے تو ہم نے پوچھا کہ امتی ہی کیا ہو تا ہے تو کہا کہ اس کو اتفاقی رائے سے پاس میں تمہر ہی سے اختلاف حربہ استعمال کیا کہ مفتی صاحب آپ ان کا نام جو کامل اتباع سے نبوت کا مقام حاصل کرے وہ کیا اور چوتھی ہیں تو نہیں باہر نکال دیا گیا۔لکھ کر دستور کو ناپاک نہ کرو تو میں نے کہا کہ کوئی امتی بھی ہے ہم نے کیا کہ کوئی اور بھی امتی نبی میں اپنے دوسری ترمیم جو مسئلہ ختم نبوت کے متعلق ایسی بات بایاں ہے بلکہ قرآن مجید اللہ تعالے کہا میں ہم نے کہا کہ تیرہ سو سال قبل کوئی ہوا کیا تھی اسمیں عجیب باتیں کہ اب فیصدی کی ہی تو ہم نے کی کتاب ہے تو اس میں شیطان ، فربونت نہیں چونکہ بہار سے بعض سکتی تھے تو ہم نے ان کو تاثر کیا کہ روتر یہ میں کرو۔نبیلہ مسلم کی تعریت تو موریکی قارون کا نام تبھی ہے۔