اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 583
583 کہ مجدد کیا بلا ہوتی ہے۔آغایہ تر یہ ہے اور نمائندہ جماعت ہے۔وجہ یہ کہ احمدی لوگ کانگریس میں تو شایل من ، جنات ات باتفاق کل حفاظ حدیث میں ہے ؟ ہو نہیں سکتے۔کیونکہ وہ خالص مسلمانوں کی جماعت نہیں ہے۔اور رح اکرام کی کے مقابلہ میں آپ عاجز آگئے۔املا کیا اعداد میں شامل ہو سکتے ہیں۔کیونکہ وہ سب مسلمانوں کے لئے علالت و خطر ایت کی تحقیر کر دی۔ورنہ آپ حریت نہیں بلکہ صرف اپنی احراری جماعت کے لئے کرتے ہیں۔جن کی و صحیح مانتے ہوئے ان کو کر سکتے تھے۔کہ مرزا جی جس طرح احادیر کانگریسی جماعت ہے۔اور حدیث الدین النصیحت کی ی نہ مہندی میں اسی طرح مجدد بھی نہیں ہیں۔کیونکہ ان تفصیل میں خود رسول مقبول اتنے عامر مسلمین کی خیر خواہی کو شمار کیا ے عقائد و صفان شتہ کے خلاف میں بس ہے۔رہیں مسلم ) ان سے پنڈ بھی چوت کیا اور صحیح حدیث کی تحقیر بھی نہ ان اس وقت مسلم لیگ ہی ایک ایسی جماعت ہے۔جو ہوتی۔اس موقع پر ان در واقع وقل مقدر این و ان کو خالص مسلمانوں کی ہے۔اُس میں مسلمانوں کے سب فرقے شامل بھی حل کردوں۔اور اس ہ ہی کی تعین کر رہے ہیں۔پیش امدی صاحبان بھی اپنے آپ کو ایک اسلامی فرقہ جانتے ہوئے اس میں شامل ہو گئے۔جس طرح کہ اہلحدیث ، حل کرونگا۔میرے ایک گستاخ ما قطار مسافر سے موافقت کرلئے کے میں امرتسری شخص نے بھی پوچھا اتل کو میں احمدیوں کی شرکت میں نہ تو مسلم لیگ کا کوئی عہدے کسی دیگر کے ٹکٹ پر اسیری کا امینی ا مت دیگر یہ کار امویوں کا اس مانا اس بات کی دلیل ہے کہ والی حقی اور شیعہ وغیر ہم شابل ہوئے۔اور اس امر کا اقرار کہ احمدی لوگ اسلامی فرقوں میں سے ایک فرقہ ہیں۔مولنا ابو الکلام کا کر ہی ہے۔ان سے کو چھٹے اگر وہ انکار کر سکے۔تو ہم ان کی تحریک میں دیکھا دینگے امارت کار سب سے آخری وجہ یہ کہ مولنا ابو الکلام نے معید مبارک کے حوالہ سے ذکر کیا ہے کہ آنحضرت صلعم نے ایسے کفار قریش کے خلاف معاہدہ کیا تھا۔پس ہی نہ لئے میں ہے کہ احمدی صاحبان بہر حال ہوت سے بہتر ہیں۔کیونکہ بٹور سرے سے اس کی شان میں آپ نئے قانون وقت علی الاولاد کا ذکر کیا۔یتیم یہ بتایا ہاں یو پی کے گورنر کو ایک تارہ دے دیا۔کہ جماعت اہلحدیث کہ میں طرح سندھ اور سرحد کا الگ ہونا ان دو صوبوں کے لئے کو انتخاب میں جداگانہ حق ملنا چاہیئے۔جرات یہ کی کہ میرا ان مفید ثابت ہوتا۔اسی طرح مرکزی اسمبلی سے بھی مسلم اکثریت والے لیگ سے پوچھا بھی نہیں محض غیرت اور جوش سے کام صوبوں کا الگ ہو جانا مسلمانوں کے حق میں مفید ہو گیا۔انشاء ال تعال ہے کہ ایسا کر دیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا۔کہ مسلم اخباروں یہ ہے پاکستان کی مختصر تشریح : نے بھی اس کی سخت مخالفت کی۔اور ممبران اہل حدیث آپ نے فرمایا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ اس وقت قرآنی حدود شرعی لیگ بالکل خاموش بلکہ شرمندہ تھے ، کیونکہ آنہیں خیر جاری ہو جائینگی ، یا بے نمازوں کو سزائیں ملیں گی۔بلکہ یہ کہتا ہوں۔اور بھی نہ تھی ، آخر کیا ہوا؟ نہ پائیں رہا نہ بانسری رہی، نہ پاکستان کے حامی بھی یہی کہتے ہیں۔کہ جو تجویز مسلمانوں کے لئے بحیثیت لیگ رہی نہ ممبر ر ہے ، إِنَّا لِلَّهِ وَإِنا اليه راجعون۔نجوم مفید ہو گی۔اسے ہم پاکستانی پاس کرا سکیں گے۔اس کی مثالیں میری بعض اور عزیزوں نے بھی مراسلات بھیجے ہیں۔جن پیش کردہ نظائر و دو صوبوں ، میں بیتی ہیں۔باقی ادھر ادھر کی باتوں میں پاکستان پر اعتراضات کئے گئے ہیں ، مگر وہ ایسے کا ئیں قومہ دار نہیں، میں نے پاکستان کے جو معنی سمجھے ہیں وہ بہی میں اعتراضات ہیں۔کہ ان کے شائع ہوئے۔اسکے بعد دفتر میں مجھ سے فرمایا۔کیا پاکستان کے مفہوم پر جو نوسیوں کی علمیت اور لیاقت کو صدمہ پہنچنے کا خطرہ اعتراضات مجھے نیچے ہیں۔میں ان کو صحیح نہیں سمجھتا۔مثلاً یہ کہا گیا ہے۔ہے، اس لئے میں ان کو قابل اشاعت نہیں سمجھتا ہے کہ اس کے بانی را نتی ہیں، بدعتی ہیں۔اور میرزائی بھی شریک نہیں۔وغیرہ وغیرہ میرے خیال میں یہ اعتراضات سیاسی اصول سے رضاء الله نبیرہ مولنا ثناء اللہ صاحو قابل بالا تر نہیں۔سیاسیات میں قوم کو بحیثیت نوع کے دیکھا جاتا ہے اصفات کا لحاظ نہیں ہوتا۔" لطیفہ : چند سال ہوئے ، ملحدیث اخبار کی تحریک سے ایک جماعت اہلحدیت نیک بنائی گئی تھی۔اس نئے اور کوئی کام تو نہ کیا امرتسری