اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 574
574 ظالم اور مشائخ فائدہ حاصل کرنے کے لئے حاضر ہوئے : اور آپ کے تسبیح اور تسلی کے وقت جارات ہیں جیاواز کے ساتھ آپ کے ہمراہ سبحان اللہ ور لا الہ الا للہ کہنے اور حرکت کرنے لگے امیروں اور اور دنیا داروں سے تاوقت وفات اس قدر گریزاں رہے۔ہر کسی کی باوجود ان کے بہت دور ہے ہونے کے ملاقات نہیں کی۔اور اپنی اولاو اور دوستوں کو ہمیشہ یہ وصیت کرتے رہے کہ دنیا داروں جمعیت زہر قاتل ہے۔اپنے مالک کی طرف متوجہ ہو وہ تم کو ضائع نہ کریگا۔اور فرماتے تھے۔دالله احمد بل کہ اللہ تعالی نے مجھ کو دنیا داروں اور امیروں سے ابتدا اور انتہا میں محفوظ ابتدا میں تو یہ حالت تھی۔کہ امیر لوگ سینکڑے روپیہ خرچ کرتے۔کہ ایک بار میرا منہ دیکھیں ریں۔دور دورت لیکن میں ہرگز ہرگز ان کو اجازت نہ دیتا تھا۔کہ میرے مکان کے پاس سے گزریں بھلے جاتے اس کے پیچھے سنت کی تابعداری کے شوق کی آگ۔نت کی تابعداری کے شوق کی آگ نے میرے سینے میں شعلہ مارا پیس پر تو تمام لوگ بہن بن گئے۔اور انہوں نے مخالفت کا جھنڈا اٹھایا۔الحمد للہ یہی اللہ ع مقبل کی تربیت بھی۔کہ آخر عمر میں اسی طرح اُس نے مجھ کو دنیا داروں سے بچالیا یہ ورنہ میری فلاح تو بسبب توجہ اسیروں اور حاکموں کے اُن کی صحبت اور مجالست اختیار کرلیتے اور دین سے ہاتھا یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے۔اور اس کی نعمت اور عمدہ تربیت ہے آپکے کان میں جو لوگ کا با خا اور کیا نام شرک اور بچیوں اور رہوں میں مبتلا تھے۔اور عالم اور مشائخ اس کو سمجھتے تھے۔پھر بیچارے عامیوں کا کیا ذکر ہے۔آپ کو غیب سے کبھی الہام کے ساتھ ان بھی خواب میں ان کاموں سے سخت روکا جاتا۔اور کتاب و سنت کی ترغیب دی جاتی آپ حیران ہوتے کہ اس ولایت میں کتاب و شدت کے علم کا نام نشان تک نہیں ہے۔اور بر کتاب و سنت کا اسباب موجود ہے کس طرح مجھ سے یہ امر انجام پذیر ہو گا۔جب یہ خیال کرتے رتیب سے تاکید آیت سنترك لیری کا مضمون الہام ہوتا نا چار سنت کی تابعداری اور رسموں اور بدعتوں کا رد کرنا اختیار کیا۔اور کتاب و سنت کے علم کی طرف توجہ کی حمہ اللہ عز وجل آپ کی تربیت کرنے والا تھا۔عرب اور مجھ سے حدیث اور تفسیر کی کیا ہیں ہم پ نے تعلیمی تعلیم اور تیری فہم اور اپنے فکر سلیم کے ساتھ محد ثمین کا عمدہ طریقہ سب طریقوں سے بہتر طریق ہے اور جن مسلوں اور جگہوں میں شبہ پڑا۔فاضل امبل