اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 540
540 الحمد للہ ہمارے سوالات کے جوابات دیئے ہیں۔آپ سے اب آخر میں گزارش ہے کہ مزید کوئی بات بیان کرنا چاہیں تو ہم ممنون ہوں گے۔مولانا دوست محمد شاہد صاحب:۔میں آپ کی اور ایم ٹی اے کے آفاقی نظام کی وساطت سے دنیائے احمدیت کے تمام بزرگوں اور عزیزوں اور شمع خلافت کے پروانوں کی خدمت میں ازخود کچھ کہنے کی بجائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حسن و احسان کے نظیر اور بانی خدام الاحمدیہ سید ناو امامنا و مرشدنا حضرت مصلح موعودؓ کے اس خطبہ کا ایک انقلاب آفرین اقتباس رکھنا چاہتا ہوں جو قیامت تک کے لئے ایک زندہ پیغام ہے۔یہ وہ خطبہ ہے جو حضور نے مسجد اقصیٰ قادیان میں ارشاد فرمایا اور یہ پہلا خطبہ ہے جس میں آپ نے مجلس خدام الاحمدیہ کی اہمیت اور اس کی حقیقت کو واضح کیا ہے۔یہاں پہلے حضور نے حضرت طلحہ کا ایک واقعہ بیان فرمایا۔حضور فرماتے ہیں کہ حضرت طلحہ ایک بہت بڑے صحابی گزرے ہیں۔ان کا ایک ہاتھ لڑائی کے موقعہ پر شل ہو گیا تھا۔بعد میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ جو جنگیں ہوئیں ان میں کسی موقعہ پر ایک شخص نے طنز ا حضرت طلحہ کو لنجا کہہ دیا۔حضرت طلحہ نے کہا تمہیں پتہ بھی ہے میں کس طرح لنجا ہوا۔پھر انہوں نے بتایا کہ احد کے موقع پر جب رسول کریم ﷺ پر کفار نے حملہ کر دیا اور اسلامی لشکر پیچھے ہٹ گیا تو اس وقت کفار نے یہ سمجھتے ہوئے کہ صرف محمد (ﷺ) کی ذات ہی ایک ایسا مرکز ہے جس کی وجہ سے تمام مسلمان مجتمع ہیں ، آپ پر پتھر اور تیر برسانے شروع کر دیئے۔میں نے اس وقت دیکھا کہ اس بات کا خطرہ ہے کہ کہیں کوئی تیر رسول کریم ﷺ کے چہرہ مبارک پر آکر نہ لگے۔چنانچہ میں نے اپنا بازو رسول کریم ﷺ کے منہ کے آگے کر دیا۔کئی تیر آتے اور میرے بازو پر پڑتے مگر میں اسے ذرا بھی نہ ہلاتا۔یہاں تک کہ تیر پڑتے پڑتے میرا بازو شل ہو گیا۔کسی نے پوچھا جب تیر پڑ رہے تھے تو اس وقت آپ کے منہ سے کبھی اُف کی آواز بھی نکلتی تھی یا نہیں۔کیونکہ ایسے موقع پر