اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 352
352 مولانا محمد اشرف صاحب پشاور اس کے علاوہ اس موقعہ پر یہ ایک بیان ہے جو ایک عالم دین نے دیا ہے۔یہ حضرت مولانا محمد اشرف صاحب صدر شعبہ عربی اسلامیہ کالج پشاور ہیں۔بہت لمبا یہ بیان ہے۔بہت کچھ اس میں لکھا ہے،مطالبے کئے ہیں کہ:۔”اب یہ فیصلہ تو ہو چکا ہے“ لیکن اب فوری طور اگلا مطالبہ یہ شروع کر دیا ہے۔(صفحہ 33 تا40 ) میں نے بتایا ہے نا کہ یہی سیاسی پالیسی ہمیشہ ملاؤں نے اختیار کی ہے۔تو پہلے زور ڈالا بھٹو صاحب پر بس اتنا فیصلہ کر دیں۔اسلام زندہ ہو جائے گا۔اور اسلامی حکومت قائم ہو جائے گی۔یہ مضحکہ خیز اقدام دیکھیں۔یہ میں نے عرض کیا ہے نام ان کا ، مولانا حضرت یعنی القاب کے سوا، تو کوئی جتنی گالیاں دینے والا ہو احمدیوں کو اسے حضرت اور مولانا اور فاتح ختم نبوت“ سے کم تو اس کو کوئی خطاب ہی نہیں دیا جاسکتا۔حضرت مولانا محمد اشرف صاحب، یہ بہت بڑے حضرت تھے۔فرماتے ہیں کہ:۔فوری عمل کیا جائے۔قادیانیوں کو فوری برطرف کیا جائے۔66 سرکاری ملازمتوں میں ان کا کوٹہ ان کی آبادی کے مطابق قرار دیا جائے۔“ حالانکہ اقلیت قرار دینے کے معنی ہی یہ ہوتے ہیں کہ یہ بے بس ہو کر رہ گئے ہیں۔اس واسطے ان کی تعداد سے بڑھ کر ان کو حصہ ملنا چاہئے تا کہ ان کی آواز ہو اور اکثریت ان کے حقوق کو دبا نہ دے اور غصب نہ کر لے۔لیکن ملاں نے یہ کہا کہ اب چونکہ اقلیت قرار دے دیئے گئے ہیں۔تو جہاں جہاں یہ لوگ پہلے موجود ہیں ان کو وہاں سے ہٹا دیا جائے۔یہ دیکھا جائے کہ ان کی تعداد کتنی ہے؟ اس کے مطابق کوٹہ دیا جائے۔پھر ربوہ کو کھلا شہر بنا دیا جائے۔یعنی وہاں پر ہمارا جانا ، گالیاں دینا اور غنڈہ گردی کرنا، اس کی اجازت دی جائے۔لٹریچر کو ضبط کیا جائے۔اشاعت پر پابندی لگائی جائے وغیرہ۔اور سمیع الحق صاحب کا جو موقف ہے وہ سرکاری طور پر عربی میں، انگریزی میں ، اردو میں