اندر کی کہانی عینی شاہد کی زبانی — Page 329
329 تیسری صدی ہجری کے وسط میں وصال پانے والے دنیائے اسلام کے ایک عظیم بزرگ اور صوفی کامل حضرت ابوعبداللہ حمد بن علی بن الحسن الحکیم الترندی کی تھی۔اس کی اہمیت یہ ہے کہ آنحضور ﷺ نے امت کو پہلے سے بتا دیا تھا کہ سب سے پہلے تو برکات سے معمور میری صدی ہے۔وہی تمام صدیوں سے سب سے افضل ہے۔اس کے بعد مرتبہ ہے دوسری صدی کا پھر تیسری صدی کا اور اس کے بعد علم کے لحاظ سے عمل کے لحاظ سے، جھوٹ اور غلط بیانیوں کا ایک سیلاب آ جائے گا۔جس سے کہ اسلامی عقیدے بھی اور مسلمانوں کے ایمان بھی متاثر ہوں گے۔تو حضرت حکیم الترندی کی شان یہ ہے کہ یہ بزرگ فوت ہوئے ہیں 155 ہجری میں یعنی تیسری صدی میں ان کی وفات ہوئی ہے اور یہ دراصل دوسری صدی کے بزرگ ہیں۔حضرت حکیم الترندی نے اپنی اس کتاب میں جو عرب میں شائع ہوئی ہے اور بیروت سے المطبعة الكاثولیکیہ میں چھپی ہے۔اس میں آپ پہلے بتاتے ہیں کہ مقام ختم نبوت کیا چیز ہے اور وضاحت کر رہے ہیں کہ یہ مقام خاتمیت فیضان کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔اس کے بعد فرماتے ہیں:۔فان الذى عمى عن خبر هذا يظن ان خاتم النبيين تاویله انه آخر هم مبعثا فاى منقبة فى هذا و اى علم في هذا۔هذا تاويل الملحد الجهلة۔کہتے ہیں۔جو لوگ بشریت بھی رکھتے ہیں اور قرآن کی عظمتوں اور محمدعربی ﷺ کے مقام ختم نبوت کے بارے میں بالکل اندھے ہیں۔ان کا یہ خیال ہے کہ خاتم النبین کے معنے یہ ہیں کہ آنحضور آخری نبی ہیں۔مگر آپ فرماتے ہیں:۔فاي منقبة في هذا آخر میں آنا کون سی منقبت (خوبی) ہے۔و اي علم في هذا اور اس میں کون سا علم ومعرفت کا نکتہ ہے۔هذا تاويل الملحد الجهلة(صفحه 340-341) یہ پاگلوں کی تاویل اور تفسیر ہے اور ان لوگوں کی ہے جوشان محمد بیت سے بھی جاہل ہیں اور