حضرت سیّدہ امتہ الحی بیگم صاحبہؓ — Page 3
حضرت سید ہ امتہ الحی صاحبہ 3 لئے بچوں میں بھی تعلیم کا شوق ہوا۔ماحول بھی دینی ملا۔آپ کے والدین کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے بہت قریب رہنے کا موقع ملا یعنی آپ حضرت اقدس علیہ السلام کے گھر الدار ہی میں رہتے تھے۔والد محترم کا زیادہ وقت حضور علیہ السلام کی خدمت میں گزرتا یہ بچی بھی ساتھ ساتھ رہتی۔اس طرح 1908 ء تک یعنی حضرت اقدس علیہ السلام کی زندگی تک تو آپ علیہ السلام کی تربیت میں رہیں اور پھر 1914 ء تک جب تک آپ کے والد صاحب خلیفہ اسیح الاول تھے خلیفہ وقت کی تربیت میں رہیں۔وہ گھر ، وہ ماحول، وہ ملنے جلنے والے ، وہ محفلیں اور صبح شام کی صلى عليسة گفتگو سب کا موضوع قرآن پاک اور حضرت محمد مصطفی منانے کی بابرکت ذات ہوتی۔ذکر الہی کی اس فضا میں سیدہ امتہ الحی صاحبہ نے ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی بہت کچھ سیکھ لیا تھا۔اس کا اندازہ آپ کو اُن کے لکھے ہوئے پہلے مضمون سے ہوگا۔آپ ساڑھے پانچ سال کی تھیں لکھنا نہیں جانتی تھیں ، ایک بزرگ سے کہا کہ جو میں بولتی جاؤں آپ لکھتے جائیں۔اب دیکھئے آپ کیا لکھواتی ہیں:۔اللہ ایک ہے۔اللہ بے عیب ہے۔اللہ رحمن اور رحیم ہے۔ہمارا سب کا مالک ہے۔قرآن سیکھنا چاہیئے اس پر چلنا چاہیئے۔چوری نہیں