المبشرات — Page 64
۶۴ نہ تزکیہ نفس پورا نہیں ہوتا اور اُن کے صدق و صفا میں بہت کچھ نقصان ہوتا ہے اس لئے کسی ابتلاء کے وقت وہ کھو کر کھا جاتے ہیں اور اگر خدا تعالیٰ کا رحم ان کے شامل حال ہو جائے اور اس کی ستاری ان کا پردہ محفوظ رکھے تب تو بغیر کسی ٹھوکر کے دنیا سے گزر جاتے ہیں اور اگر کوئی ابتلا پیش آجاوے تو اندیشہ ہوتا ہے کہ بلغم کی طرح اُن کا انجام بد نہ ہو۔۔۔وہ دور سے روشنی کو دیکھ لیتے ہیں مگر اس روشنی کے اندر داخل نہیں ہوتے اور نہ اس کی گرمی سے کافی حصہ ان کو ملتا ہے اس لئے اُن کی حالت ایک خطرہ کی حالت ہوتی ہے ؟ تیسرا مرتبہ (1) 1 خدا تعالیٰ سے کامل تعلق پیدا کرنے والے اس شخص (حق الیقین سے مشابہت رکھتے ہیں جو اول دور سے آگ کی روشنی دیکھے اور پھر اس سے نزدیک ہو جائے یہاں تک کہ اُس آگ میں اپنے تیکں داخل کردے اور تمام جسم جل جائے اور صرف آگ ہی باقی رہ جائے اسی طرح کامل تعلق والا دن بدن خدا تعالے کے نزدیک ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ محبت الہی کی آگ میں تمام وجود اس کا پڑ جاتا ہے اور شعلہ نور سے قالب نفسانی جل کر خاک ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ آگ لے لیتی ہے" (ب) اور اس آگ کے غلبہ کے بعد ہزاروں علامتیں کامل محبت کی پیدا ہو جاتی ہیں کوئی ایک علامت نہیں ہے تا وہ ایک زیرک اور طالب حق پرشتہ ہو سکے بلکہ وہ تعلق صد با علامتوں کے ساتھ شناخت کیا جاتا ہے منجملہ ان علامات کے یہ بھی ہے کہ خدا نے کریم اپنا فصیح اور لذیذ کام وقتا فوقتا اس کی زبان پر جاری کرتا رہتا ہے جو اہی شوکت اور غیب گوئی کی کامل طاقت اپنے اندر رکھتا ہے اور ایک نور اس کے ساتھ ہوتا ہے جو بتلاتا ہے