المبشرات — Page 21
۲۱ وو جو پسر موعود اور گذشتہ انبیاء و صلحاء کی پیش گوئیوں کے مصداق ہیں جنوری لشہداء کو تولد ہوئے آپ اشتہاء میں تحصیل علم کی غرض سے قادیان کی ایک مقامی و درسگاہ میں داخل ہوئے لیکن کسی ایک بھی درسی امتحان میں کامیاب نہ ہو سکے اور محض جذ بہ عقیدتمندی کے باعث اگلی جماعت میں شامل کئے جاتے رہے تھ کی ایک تاریخی شب کو آپ پر خدا تعالیٰ سے محبت و شیفتگی کی عاشقانه کیفیت طاری ہوئی اور آپ نے رات کی خاموش تنہائیوں میں اپنے پیارے خدا سے ہمیشہ پابند صلوۃ رہنے کا عہد کیا۔مئی شعراء میں آپ نے حضرت مسیح موعود کی نعش مبارک کے سامنے کھڑے ہو کر ایک دوسرا عہد یہ باندھا کہ اگر سارے لوگ مسیح موعود کو چھوٹر دے تب بھی آپ تنہا ساری دُنیا کا مقابلہ کریں گے۔ار مارچ ء کو خلیفة المسیح اول حضرت مولانا نور الدین رضی اللہ عنہ کی وفات پر جب جماعت احمدیہ کا ایک عنصر جس کی قیادت چند مغربیت زدہ افراد کر رہے تھے لعظام خلافت سے الگ ہوئے تو قدرت کی طرف سے آپ کو قبائے خلافت پہنائی گئی۔جنوری ۱۹۳۳ء میں آپ کو عالم کشف میں بتایا گیا کہ آپ ہی پر موعود ہیں۔آپ ۱۹۴۷ء کے وسط تک قادیان (بھارت) میں اقامت گزین تھے لیکن بعد کو جب ملک کا سیاسی ماحول سخت مخدوش ہو گیا آپ ہجرت کر کے پاکستان میں تشریف لے آئے۔2 اء کے فرقہ وارانہ فسادات جماعتی نظم پر نہایت درجہ اثر انداز ہوئے لیکن آپ نے یہاں پہنچتے ہی مشکلات کے بھرے ہوئے طوفانوں پر قابو پالیا اور چند سالوں کے اندر اندر ربوہ ایسی جدید اور بارونق بستی آباد کر کے ستم رسیدہ جماعت کو پھر سے مرکزیت کی مضبوط چٹانوں سے مربوط کر دیا۔حضرت امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ تعالٰی کی دلربا اور مقناطیسی شخصیت آج دنیا کی خصوصی توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔امریکہ یورپ - افریقہ اور ایشیا کے لاکھوں