المبشرات

by Other Authors

Page 177 of 309

المبشرات — Page 177

IM کوئی مکان کرایہ پر لیا ہوا ہے اور مولوی اختر علی صاحب نے میری دعوت کی ہے۔کچھ اور لوگوں کی بھی انہوں نے دعوت کی ہے۔میں حیران ہوتا ہوں کہ ایسے شدید و شمن کا دعوت کرنا کیا معنی رکھتا ہے۔مگر میں نے دعوت قبول کرلی۔اور اُن کے گھر پر چلا گیا۔وہاں میں نے دیکھا کہ ایک کرسی پر مولوی ظفر علی صاحب بیٹھے ہیں لیکن کمزور معلوم ہوتے ہیں اور بڑھانے کے شدید استار اُن پر تک ہر ہیں۔دونوں باپ بیٹا مجھ سے لے اور پھر انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ ہمارا مکان چھوٹا ہے اگر آپ کہیں تو آپ کی کوٹھی میں ہی دعوت ہو جائے۔میں نے خوشی سے اس کو منظور کر لیا۔چنانچہ میں بھی اور دوسرے مہمان بھی اور مولوی ظفر علی صاحب بھی اور مولوی اختر علی صاحب ہماری کوٹھی پر آگئے۔وہاں ایک بڑا کمرہ ہے اس میں سارے بیٹھ گئے کہ یہیں کھانا کھایا جائے گا۔اس کے بعد میں نہیں کہہ سکتا کہ میری آنکھ کھل گئی یا بعد کا نظارہ مجھے یاد نہیں رہا۔بہر حال خواب اسی حد تک مجھے یاد ہے۔" والفضل ۳۰ اکتو بر مصرف کالم ۴۳) (مرتب) مولوی ظفر علی صاحب جن کا انتقال دو ایک سال پیشتر ہوا ہے بر صغیر ہندو پاکستان کے مشہور صحافی ادیب طناز اور نغز گوشاعرتھے۔آپ کے والد صاحب مرحوم حضرت مسیح موجود علیہ السلام کے بہت بڑے مداح تھے بلکہ خود آپ بھی اوائل میں احمدیت کی اسلامی خدمات کے معترف تھے۔لیکن ماہ میں آپ نے بعض۔۔۔۔۔مصلحتوں کی بناء پر جماعت احمدیہ کے ۳ء خلاف۔۔۔۔۔۔محاذ قائم کر لیا اور پھر جب تک یا ہوش و حواس رہے احمدیت کی مخالفت کو فرض اولین سمجھتے رہے۔سے وفات کے چند ماہ پیشتر آپ جب مری میں اپنی زندگی کے آخری دن گزار