المبشرات — Page 175
169 رکھتی ہے جو لاہور میں نومبر کے آخری ہفتہ میں ہوا۔اگرچہ آریوں نے طے شدہ شرائط پر جھگڑا پیدا کر کے یہ کوشش کی کہ مناظرہ رُک جائے لیکن مبلغین سیلیلہ نے اُن کی نئے سرے سے پیش کی ہوئی شرائط کو منظور کر لیا اور میدان مناظرہ میں نمایاں فتح حاصل کی۔کانوائے پر حملہ کی خبر ۱۹۴۷ء میں جب قادیان کی آبادی محصور ہو گئی تو حضرت امام جماعت احمدیہ کی جد و جہد سے پاکستان سے نکڑوں ٹرک بھجوائے گئے تا مسلمان باشندوں کو پاکستان منتقل کر دیں اس سلسلہ میں اکتوبر کے ابتدائی ہفتہ میں بھی ۳۲ لڑکوں پرمشتمل ایک کا نوائے بھجوایا گیا جسے قادیان سے میل کے فاصلہ پر بٹالہ شہر میں روک لیا گیا اور اس پر گولیوں کی بارش ہوئی جس سے متعدد پناہ گزین شہید اور بے شمار مجروح ہوئے۔ایک رویا میں حضرت امام جماعت احمدیہ کو بھی اس حملہ کی خبر دی گئی تھی۔چنا نچہ آپ فرماتے ہیں : در آن صبح کمینے خواب میں دیکھا کہ میاں بغیر احمد صاحب آئے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ بٹالہ کے پاس ان ٹرکوں پر جو آئے تھے حملہ ہوا ہے وہاں سے آدمی آیا ہے اور اس نے کہا ہے کہ وہ کپڑے مانگتے ہیں اور شائد چار سو کے قریب کپڑے تھے۔تھوڑی ہی دیر میں اس رویا کی تصدیق ہو گئی اور خبر آئی کہ بٹالہ میں شرکوں پر حملہ ہو گیا ہے اور وہاں سو آدمی سے زیادہ مارا گیا ہے کچھ ٹرکوں ۴۵ اکتوبر شارد