المحراب — Page 74
۲۷ دسمبر کو حضور زنانه جلسه گاه ت لائے اور مستورات سے خطاب فرمایا اپنی تقریر میں حضور نے عورتوں پر یہ نکتہ واضح فرمایا کہ خواتین بھی دینی کاموں میں اور پیچاکنش واں جلسہ سالانہ قربانیوں میں حصہ لے سکتی ہیں۔ملکہ لینا چاہیئے حضور نے فرمایا۔پس یہ خیال اپنے ولوں سے نکال ڈالو کہ عورت کوئی کام نہیں کر سکتی ہیں آج یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اے احمدی عور تو تم اپنی دینیت کو بدل ڈالو کہ آدمی کے معنے مرد کے ہیں، تم بھی ویسی ہی آدمی ہو جیسے مردہ خدا نے جو عقیدے مردوں کے لئے مقرر کئے ہیں وہی عورتوں کے لئے ہیں اور جو انعام وافضال مردوں کے لئے مقرر کئے ہیں وہی عورتوں کے لئے ہیں۔۔۔۔۔پس اول اپنی ذمنیت کو بدلوا اور سمجھد لو کر تم کو خدا نے دین کی خدمت کے لئے پیدا کیا ہے۔۔۔۔حضور کی تقاریر کے علاوہ حضرت مفتی محمد صادق اور حضرت مولوی عبدالرحیم نیر کی تقاریر بھی مردانہ جلسہ گاہ سے سی گئیں۔اس حلیہ میں ہونے والی مستورات کی تقاریر کی تفصیل درج ذیل ہے۔خلافت ثانیہ میں عورتوں کی دینی خدمات امنتها اگر شید بنت مرزا برکت ملی صاحب تعلیم سے نا جائنہ فائدہ اٹھانا انتبال بیگم صاحی الیه شیرمحمد ساحیب و مقاصد تمدن اسلام امه اله بیگم صاحبہ بہت مولوی ابو العطار سایت سیده فضیلت بیگم صاحبه احمدی لڑکیوں کو علم دین سکھانے کی اہمیت امتہ الرشید شرکت صاحبہ ہمارے جلسہ سالانہ کی اہمیت حمیدہ بیگم صاحبہ بنت ابو برکت علی صاحب صداقت حضرت مسیح موعود رپورٹ لجنہ اما و الله خطاب اشیده صدیقی صاحبہ حضرت سیدہ ام طاہر حضرت سید و مریم صدیقہ ہ پہلا موقع تھا کہ زنانہ جلسہ گاہ کے بیٹے سے کسی مرد نے تقریر نہیں کی۔بیعت حلی سالانہ پر سبعیت کرنے والے احباب کی کل تعداد ۳۸۶ مفتی جین میں ۱۹۹ مردا در ۱۸۷ خواتین تھیں۔منعقده ۲۶ تا ۲۹ دسمبر ۶۱۹۹ بمقام بیت الاقصی قادیان بر دسمبر کو حضرت خلیفہ المسح انسانی کے خطاب سے جلسہ کا افتتاح ہوا۔اپنے خطاب میں احباب جماعت کو نصیحت فرماتے ہوئے حضور نے فرمایا۔ہم بظاہرا علائے کلمتہ اللہ کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں لیکن اگر دلی ایسے نیک جذبات سے خالی ہوں تو ہم اللہ تعالیٰ کو وضو کا دینے والے ہوں گے اور واعظین بھی اور سامعین بھی گھاٹے میں رہیں گے سو میں سب کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی نیتوں کی اصلاح کر سکے اللہ تعالیٰ کے حضور جھک جائیں۔اور نہایت ہی دردمند دل کے ساتھ عرض کریں کہ اسے ہمارے رب یا ہم اس لیے یہاں جمع ہونے ہیں تا تیرا نام دنیا میں بلند ہو تیری عظمت اور جلال دنیا میں ظاہر ہو تیرا دین نیا میں پھیلے۔تیری حقانیت باطل پر غالب آئے تیرے بھیجے ہوئے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت دنیا میں ظاہر ہو۔آپ کی لائی ہوئی شریعت پھیلے۔حضرت مسیح موعود کی قرآن اور احادیث کی بیان کردہ نشتر سے کو لوگ سمجھیں اس پر ایمان لائیں اور اس پر شک کریں بھولی بھٹکی دنیا کو ہم حقیقی بندے بنا سکیں سیاہ دلوں کو تو بے عیب بنا دے تو ہم سے خوش ہو جائے اور ہمہ تجھ سے خوش ہو بھا ئیں کہ تو ہم سے راضی ہو گیا۔۲۷ دسمبر کو حضور کا خطاب متفرق جماعتی امور کے بارے میں تھا۔۲۸ دسمبر کو حضورہ کا اختتامی خطاب شانہ کے پہلے سالانہ میں شروع کیے جانے والے مضمون سیر روحانی کے سلسلہ کا تیسرا حصہ تھا۔اس بیلہ میں کی جانے والی علمائے سلسلہ احمدیہ کی تقاریر کی تفصیل حسب ذیل ہے۔صفت تکلم باری تعالی۔ذكر حبيب۔پرفیسر قاضی محمد اسلم صاحب۔حضرت مولانا شیر علی قرآن کریم مقاله دیگر کتب سماد بیه۔ملک عبد الرحمان صاحب خادم حضرت مسیح موعود۔۔۔کا پیغام ہندو قوم حضرت چوه پدری فتح محمد سیال کے نام۔ظهور مسیح موعود کی علامات اور ان کا پورا ہونا، مولوی محمد یار صاحب عارف 26