المحراب

by Other Authors

Page 25 of 207

المحراب — Page 25

والقال الامن الملك الله الدينية مینٹری تصر الالة الوحدة الحمر محتدَه وَتُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ القَرِيمِ یم مئی 1991 غا میں کے اس عند این یکی ضورات مکرمہ آیا سلیم مجنہ اماءاللہ کراچی اسلام علیکم و شکسته دسته و بر کا فریاد ابھی الفصل مورخہ 29 رمضان المبارک میں شائع شده ایک مضمون بعنوان: خوش نصیب کہ ہم میزبان تھے ان کے " پڑھا ہے اسے درسم آیا کہیں تو پیام دل کی عجیب کیفیت ہے۔لاہور ولپنڈی۔شیخو پورہ کراچی حیدر آباد کہیں تھوڑا تسلم کرتا تھا۔جیا جہاں زیادہ موقع ملتا نقادہ بھی ہمیشہ تھوڑا ہی معلوم میرا - آن کی آن میں وقت گزر جایا کرتا تھا۔یہ مضمون پڑ ھتے ہوئے وہ سب یا دین ہجوم در ہجوم امڈ آئیں۔جوں جوں پڑھتا گیا دل گداز ہوتا چلا گیا اور پانی برستا رہا کس نے اتنا اچھا مضمون لکھا ہے۔اتنا کیا ہوا۔اتنا متوازن - اتناشتہ۔مسکراہٹوں کے ریشم ہیں اور پیٹے ہوئے۔سنجید ، باتوں کے ہمراہ ان سر کی انگلیاں تھیڑ۔سے ہوئے ہلکی پھلکی لا ابالی باتیں بھی بچیوں کی طرح ساتوں تو چلتی۔دوڑتی دکھائی لسن مویشی متین رایگان یہ تو امتہ المباری ناصر سما اللہ کی دکھائی دیتی ہے ہے کہ آپکی ساری حاملہ نے مل جل کر رنے یا ہم ضرور ہوئے ہونگے تکتا لکھوایا ہے۔کچھ جو اتنے رنگوں میں اثبات بہار ہوا ہے بعض دفعہ کا موں میں ایسا انہماک ہوتا ہے کہ سب یادوں کے رشتے معطل ہوئے ہوتے ہیں۔اچانک کوئی پیر در دخطہ کی خط میں کوئی سادہ سا ہے ساختہ اظہار تعلق۔کوئی پرتا خیر نظم۔کوئی اچھوتی سالانہ تحریر چونکا دیتے ہیں اور یادوں میں ایسا تموج پیدا کر دیتے ہیں کہ اُسے دھیما ہوتے ہوتے اور قرار پکڑتے نے کچھ وقت لگتا ہے۔پاکستان کے پیارے احمدی سب یاد آنے لگتے ہیں۔چند لمحوں کے لئے باریں کارفرما امر کام معطل ہو جاتے ہیں یہ بھی ایک غنیمت ہے۔کبھی کبھی چھو چھوڑ کر موجوں کے ساتھ بہتے چلے جانے میں بھی ایک مزا ہوتا میں غرق ہو کر پھر سلامت البعد ا نے سے جسم دھان کو ایک نئی توانائی ملتی ہے۔جویا دیں ڈ ہوتی ہیں الله دھو بھی ڈالتی ہیں هردار خدمت کی توفیق عطا حسین طرح سب نہیں خلوص ایک قالب میں ڈھل کر تعاد چی کو ہمیشہ دین کی بے لوث اور کر رہی ہیں۔خدا کرے یہ ہمیشہ اسی طرح رہے۔آپکی قیادت میں به جان ابر هش مظاہری اللہ تعالٰی چشمہ جمود سے کر یکی حفاظت فرمائے اپنی رضا کی دائی جنت آپکو عطاء رمائے اوردو تورجان کی حسنات سے آپ سب کے دامن پھر یہ سے آمین