المحراب

by Other Authors

Page 174 of 207

المحراب — Page 174

ماریشس ۲۶۱۹۲۳ نومبر دار السلام روزی میں پہلا سالانہ جلسہ ہوا۔لمبے تعطل کے بعد دسمبر 1901ء میں دوسرا سالانہ جلسہ ہوا، پھر جنوری منشہ دار السلام کے نئے بال بین سالانہ جلسہ ہوا جس میں مولوی محمد اسماعیل منیر صاحب، احمد الیت سرکاری عہدے دار شریک ہوتے اور پیغامات ارسال کرتے ہیں ذرائع ابلاغ پروقار طریق پر تشہیر کرتے ہیں۔۱۳ تا ۴ در جنوری کوانہ میں شرکاء جلسہ کی تعداد ہم سہزار تھی۔سیکرٹری آف سٹیٹ اور پیرا ماڈنٹ چینیس نے شرکت کی گیارہ لاکھ سے زائد سیڈیز مالی قربانی پیش کی۔ٹیلی ویژن، ریڈیو اور اختبارات نے دیتے پیمانے پر خبریں بجنوی صاحب اور احمد حسین صاحب سوکیہ نے نقار کیں۔اس کے بعد ہ جنوری شائع کیں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کا پر جلال پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔شاہ کو سالانہ جلسہ ہوا جس کی افتتاحی تقریر مکرم مولوی محمد اسماعیل صاحب منیر نے کی اس جلسہ میں وزیر صحت اور بنک آف ماریشس نے تقاریر کیں۔ان کو لٹریچر پیش کیا گیا۔سنہ میں یکم اور دور اگست کو جلسہ ہوا، جلسے کا افتتاح کرم قریشی محمد اسلم صاحب نے کیا۔حضرت خلیفہ المین الثالث کا پیغام پڑھا کرتا یا گیا۔ہم سب احمدی افراد کو اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھنا چاہیے جب تک دین حق انا قل) کا پیغام دنیا کے کونوں تک نہیں پہنچا لیتے؟ یہ خدا کی تقدیر ہے کہ افریقہ دین حق کی نشاہ تانیہ میں خاص رول ادا کرنے میں ان قدموں کی چاپ سن رہا ہوں جو فوج در فوج دین حق کے قلعہ میں داخل ہوں گئے میری آنکھے دین حق کے جھنڈے کو بلند ہوتے اور کفر کے جھنڈوں کو سرنگوں ہوتے دیکھ رہی ہے؟ انڈونیشیا شانه ۲۲ ۲۵ دسمبر جماعت احمدیہ پاڈانگ نے پہلا کا میاب جلسہ کیا جس میں بہت سے دیگر مسلمانوں اور علماء نے شرکت کی اس جلسہ کی خیر وہاں کے جلسہ کے دوران تراجم قرآن اور کتب کی نمائش کا اہتمام بھی کیا گیا اور گورنر کثیر الاشاعت اخبار راویوں میں شائع ہوئی۔یہ سب سے پہلی خبر تھی جو جماعت کے جندل سرار بتر یو نارڈ ولیمز کو قرآنکریم انگریزی کا تحفہ دیا گیا جس میں بعض ہندو اور بارے میں کسی اخبار نے حیات کر کے شائع کی۔اس اخبار کے ایڈیٹر عبدالوہاب تھے عیسائی حضرات بھی شامل ہوئے۔( الفضل 3 جنوری ۱۹۷۱ء ) جنھوں نے جماعت احمدیہ کے علماء کی علمیت پر موثر تبصرہ شائع کیا اور عوام الناس یکم دور اکتوبر ۱۹۸۳ء بمقام روز بل ماریشس جلسه سالانه منعقد مودار کو احمدیت اور احمدیوں کی مخالفت سے باز رکھنے کی تلقین کی۔حاضری ۲۰۰۰ تھی۔قائم مقام وزیر اعظم عزت ماب سر گائیاں جیواں صاحب نے شرکت کی۔چوہدری احمد مختار صاحب امیر جماعت کراچی، چوہدری شبیر احمد صاحب وکیل المال اول نے بھی شرکت کی۔ملکی ٹی وی نے جھلکیاں دکھائیں۔کھانا ہ میں اسپام کے مقام پر ۴٫۳٫۲ اگست کو ساری جماعتوں کا پہلا جلسہ سالانہ منعقد ہوا۔اگلے سال ۹ ۱۰ ۱۱ جنوری ۱۹۲۳ء کو اسپام میں پھر ایک و الفضل قادیان سر فروری ۱۹۲۸ د) ۲۶ تا ۲۸ دسمبر ۱۹۵۷ء کو ۱۹۵۲ء کو انڈونیشیا کا چوتھا جلسہ سالانہ منعقد ہوا۔حضرت مصلح موعود کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔(تاریخ احمدیت ۱۵ من ۳۵) ۳۱٫۳۰٫۲۹ دسمبر مشکله بمقام چی سار وار بوگور) مغربی سجادا میں انڈونیشیا کا ۲ رواں سالانہ جلسہ منعقد ہوا۔دو ہزار افراد نے شرکت کی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثالث اور صا حبزادہ مرزا مبارک احمد وکیل التبشیر کا پیغام کا میاب جلسہ کیا گیا۔یہ جلسے شروع میں سائٹ پانڈ سے باہر کی جماعتوں میں ہر سال پڑھ کر سنایا گیا۔(الفضل دار اپریل ۱۹۷۹ء) باقاعدگی سے کیئے جاتے رہے۔۱۹۴۷ء میں سالانہ جلسہ کماسی شہر میں منعقد ہوا تیسواں جلسہ ، ۹٫۸ جنوری ۱۹۵۴ ء کو ہوا تیس میں ۱۵۰۰ر احباب شریک ہوئے میں تقریبا سور ہ ا م احمدیوں نے شرکت کی۔اس کے بعد عموماً جنوری میں سالٹ پانڈ میں جلسے ہوتے رہے۔سالٹ پانڈ کے جلسوں میں مرکزی جلسوں کی طرح مہمان خوش و خروش سے حمد کے ترانے گاتے ہوئے لاریوں میں بھر بھر کر آتے ہیں۔عورہ میں جلسہ کے شہر کار کی تعداد ۵۰۰۰ سے زائد تھی۔۶٫۲ جنوری ۹۷ میں بمقام سالٹ پانڈہ کھانا، منعقد ہونے والے ۱۰۰ ۱۱ ۱۲ نومبر لالہ کو انڈونیشیا میں ۲۹ جلسہ سالانہ منعقد ہوا۔اس جلسہ حکومت کے ایک نمائندے نے شرکت کی۔انڈونیشیا کی مشہور اخبارات نے اس جلسہ کی خبریں نمایاں طور پر شائع کیں۔۱۳۷ افراد نے اس جلسہ میں احمدیت قبول کی۔والفضل مر مٹی ۱۹۸۲ء) ازار میں تانگانیکا کی احمد بہ بیت الذکر کا افتتاح ہوا طول و عرض سے جلسہ سالانہ میں شر کاء کی تعداد ۲۰۰۰۰۰ ختنی - ۱۰ تا ۱۲ جنوری شکل میں منعقد جماعت ہائے مشرقی افریقہ ہونے والے جلسہ سالانہ نہیں سرکار کی تعداد ۳۰۰۰ تھی۔تا ۱۰ جنوری ۹۷ نہ میں جلسہ سالانہ میں ۴۰۰۰۰م افراد نے شرکت کی۔تشریف لائے ہوئے عہدیداران کی ایک میٹنگ میں فیصلہ ہوا کہ ہر سال ایک کانفرنس گھانا کے جلسوں کی خصوصیت یہ ہے کہ وہاں بغیر کسی تعصب کے اعلی ترین ہوا کرے ، چنانچہ پہلی سالانہ کا نفرنس شہ میں نیروبی میں منعقد ہوئی۔حسن میں