المحراب — Page 121
تربیت اولاد رضیه در ر صاحبه خواتین کا کردار اسلامی تعلیما کی شینی میں شرکت گوہر صاحبہ مطالعہ کتب حضرت بانی سلسلہ احمدیہ صاجزادی امتہ القديس قرآن مجید ہمارے لئے مشعل راہ ہے راشدہ اشرف صاحبہ عزیرات میں حضرت محمد کا خلق عظیم حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد حضرت عیسی علیہ اسلام کی طبعی وقام مولوی عبد السلام صاحب عمر اور اس کے عالمی اثرات دہ آیا منتظر تھے جس کے دن رات مولوی چراغ الدین صاحب بعض غیر ملکی نمائندگان نے بھی عید سے خطاب فرمایا۔علاوہ ازیں ماریشس، امریکہ ، انڈونیشیا، بچی ، نائجیریا، بنگلہ دیش اور جرمنی کی نمائندہ خواتین نے جلسہ سے خطاب کیا۔نواسی وان جلسه سالانه متعقده ۲۶ - ۲۷ - ۲۸ دسمبر ۶۱۹۸۷ کلام اللہ کا مرتبہ اور حضر مصلح موعود مولانا دوست محمد صاحب شاہد مولانا محمد شفیع صاحب اشرف خلافت حقه عہد حاضر کے تعلق قرآنی پیشگوئیاں صاحبزادہ مرزا انس احمد ذکر رفقائے حضرت اقدس حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان حيات الأخرت مولوی فضل الہی صاحب انوری سیرت سید نا حضرت مسیح موعود مولانا نسیم سیفی صاحب احمدی حضرت اقدس کی نگاہ نہیں مجیب الرحمان صاحب دسمبر کو نظارت اصلاح و ایستاد کے زیر اہتمام شینہ اجلاس میں علمائے اس سال انڈو نیشیا۔ملائشیا۔سنگاپورہ۔برطانیہ۔جرمنی۔امریکہ۔کینیڈا ماریش اور کئی افریقی ممالک کے وفود نے جلسہ میں شرکت کی۔احمد می انجیروں کی سلسلہ کی تقاریرہ ہوئیں۔ذاتی محنت و کاوش سے انگریزی اور انڈو نیشین زبانوں میں ترجمہ کا بند دویت تھا۔سوا دو سو احباب کو تراجم منائے گئے۔جلسہ کی وڈیو کیسٹ بنائی گئی۔ایک فریاتی ملک نے اپنے خریج پر جلسہ سالانہ کی کاروائی ریکارڈ کروائی۔۲۷۔دسمبر کی شب مجلس خدام الاحمدیہ کے شعبہ تحریک جدید کے زیر انتظام عالمگیر نے بانوں کا جلسہ ہوا جس میں دنیا کی مختلف زبانوں میں تقاریر کی گئیں۔۲۶ دسمبر کو حضرت خلیفہ ربیع الثالث نے افتتاحی خطاب فرمایا اور درود سوز جلس الانه مستورات میں ڈوبی ہوئی مدعا کہ دوائی۔اس سال برطانیہ، امریکہ ، غانا ، جرمنی، سری لنکا، ماریشس، انڈونیشیا جزائر غرب الہتہ، جنوبی افریقہ بھارت اور ملائشیا کی ۵۶ نمائندہ خواتین نے ار دسمبر کو دوسرے اجلاس سے خطاب فرماتے ہوئے حضور نے پیارھویں صدی ہجری کے پہلے سال میں نازل ہونے والے فدائی فصلوں کا تذکرہ فرمایا اور حجاب جات جلسہ میں شرکت کی۔کو ستارہ احمدیت کا خصوصی اعزاز عطا کیا۔حضور نے سنادہ احمدیہ عطا کرتے ہوئے فرمایا۔حضرت خلیفہ مسیح التالف کی تینوں تقاریر نیر حضرت صاجزادہ مرزا طاہر احمد مولانا دوست محمد صاحب شاہد، صاحبزادہ مریا انس احمد مولانا نسیم سیفی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کی برکتوں کے طفیل امت محمدیہ نے چودہ صدیوں کے مجیب الرحمان صاحب کی تقاریہ مردانہ جلسہ گاہ سے سنی گئیں۔۔دسمبر کی صبح حضور زنانہ جلسہ گاہ میں تشریف لائے اور مستورات سے اندر خدا تعالیٰ کے زندہ نشان ایک یا دو نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں دیکھے اور مریدی خطاب فرمایا۔اپنے خطاب سے قبل حضور نے تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی نے زبان حال سے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اس لئے میں نے اس ستارے کے چودہ کو نون میں اللہ اکبر کھوا دیا ہے ؟ حاصل کرنے والی احمدی طالبات کو تمغے دیئے۔اپنی تقریر میں حضور نے فرمایا " ہر چیز کو بھول کر اپنے دین کو غالب کہنے اس موقع پر حضور نے احباب جماعت کو ستارہ احمدت دکھایا اور چودہ صدیوں کی طرف سے لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر کا ورد کیا۔کی مہم میں لگ جاؤ۔اور عورتوں کومردوں کے پہلو ہ پہلو اس ہم میں حصلنا چاہیئے ۲۸ د میر کو حضور کا اختتامی خطاب "سبحان الله" کے موضوع پر یاد رکھیں تلوار کی دھار اتنی تیز نہیں ہوتی جنتی محبت کی دھارے پیشیاں ترک اللہ تعالے کی توحید اور ذات و صفات کا جامع تذکرہ تھا۔جلسہ میں کی جانے والی علمائے سلسہ احمدیہ کی تقاریر کی تفصیل درج ذیل ہے۔ت عزیز اللہ ان کی بستی کی مولانا یا ان کے خان صاحب دلیل ہے کرنے کا زمانہ ہے۔مرد اکیلا یہ کام سرانجام نہیں دے سکتا ہے جائے تورات میں ہونے والی تقاریر کی تفصیل درج ذیل ہے۔حضرت سیده مریم صدیقه صد ر لیته مرکز به سیرت حضرت امال جان ۱۲۴