المحراب — Page 87
کیا گیا۔سب سے پہلا درس محترمہ ناصرہ بیگم صاحبہ اہلیہ صاحزان مرنا منصور احمد ہوتی رہیں۔کیونکہ اس وقت اسے جماعت احمدیہ کے واحد رحمان کے صاحب نے دیا۔اس کے علاوہ محترمہ آمنہ بیگم چودھری عبد اللہ خان صاحب۔حیثیت حاصل تھی۔جیکب لائنز ہیں اور محترمہ خضر سلطانہ صاحبہ حلقہ سعید منزل میں درکس دیتی رہیں۔1900 ۱۹۵۵ ء میں جو حلقہ جات کام کر رہے تھے۔ان میں کام کرنے والی نمایاں نمبرات کے نام یہ ہیں محترمہ آمنہ بائی صاحبہ سیدہ جمیلہ خاتون صاحبہ صاحبه ناظم آباد میں حلقہ 19 میں قائم ہو چکا تھا جس کی صدر محترمہ محترمہ انور بیگم صاحبہ ، عائشہ بٹ صاحبہ ہاجرہ بیگم صاحبہ۔فہمیدہ بخاری عائشہ بیگم عیسی خان بھاگلپوری صاحب تھیں۔ان کی مسلسل علالت کی وجہ صاحبہ بیگم مفتی محمد حسین صاحب امتہ القدير فرحت صاحہ - امتہ الحن طلعت سے ۱۹۵۲ء میں نئے انتخابات عمل میں آئے۔اور عائشہ بیگم صاحبہ انتظار حسین بیگیم اشرف صاحبہ بیگم تمتاز اسلم صاحبہ بیگیم طاہرہ ناصر شاہ صاحبہ صاحب کونی صدر منتخب کیا گیا محترمہ نامہ دیگر ایم اے خورشید صاحبہ نائب صدور ساده نیم صاحبہ محترمہ امته الطیف بشیر صاحبہ ، اور امت اسلام بیگم صاحبہ اور بیگم شریف و رایج صاحب کیریٹری مقرر کی گئیں۔بعد میں اس میں کچھ ترسیم ۱۹ء میں لجنہ کراچی کو ایک منظم اور تربیت یافتہ جماعت کی ہوئی اور محترمہ ظفر جہاں بھٹی صاحبہ اہلیہ بیگیر عبد المجید بھٹی صاحب کو نائب صدر حیثیت حاصل ہو چکی تھی۔اور اب کام بھی کافی پھیل گیا تھا۔سینٹرل کمیٹی اور بیگم خورشید صاحبہ کو سیکریٹری بنا دیا گیا۔سیے بڑی مال محرم میاد خورشید ماہ اور کا حلقہ جات پر مکمل کنٹرول تھا۔ہر شعبہ کے لئے علیوں اکسیر بڑی مقولہ تھی۔ہر ماہ عاملہ عامہ کا ایک جلسہ ہوتا تھا جس میں تمام حلقہ جات کی کار کردگی ا نائب سیکرٹری و سیمہ اختر صاحبہ مقررہ ہوئیں۔۲۶ اگست ۱۹۵۳ء کو حضرت خلیفہ ربیع الثانی نے احمد یہ ہال کی رپورٹ کی جاتی تھی۔سنٹرل کمیٹی کے عہدیدار حلقہ جات کا دورہ کر کے میں لجنہ اماء اللہ سے اہم ترین خطاب فرمایا جس میں احمدیت کے خلاف ان کی مستعدی کا جائزہ لیتے رہتے تھے۔مخالفت کے طوفان کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے مستورات پر زور دیا کہ لجنہ کراچی کے کام میں وسعت کے پیش نظر اب ایک کلرک مردوں کے دوش بدوش وہ بھی احمدیت کے متعلق پھیلائی گئی غلط فہمیوں کی ضرورت محسوس کی جانے لگی تھی جو حابات اور ریکارڈ رکھ سکے چنانچہ کو دور کرنے کی کوشش کریں۔کیونکہ سوسائٹی میں ظاہر طور پر عورتوں کا محترمہ حفیظ الرحمان صاحبہ نے کچھ عرصہ یہ ذمہ داری سنبھالی اور دفتر کی اثر و رسوخ کافی بڑھ چکا ہے۔آپس میں میل جول اور تعلقات کا فائلوں کو با قاعدہ ترتیب دیا۔احمدیہ ہال کی تکمیل سے قبل تمام بڑے دائرہ وسیع کرنے سے غیروں کو ہمارے عقائد کا بخوبی علم ہو سکے گا 19 جلسه جات بیگم صاحبہ چودھری بشیر احمد صاحب کی قیام گاہ پر ہوتے تھے۔میں لمعہ کراچی کی طرف سے بیگم رعنا لیاقت علی صاحبہ کو بالینڈ میں سفیر بعد میں سارے اہم جلسہ جات اور تقریبات احمدیہ ہال میں منعقد کی مقرر ہونے پر عصرانہ دیا گیا اور سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے لجنہ اماء اللہ کے جانے لگیں۔مقاصد اور مسائی سے آگاہ کیا گیا۔اپنے جوابی خطاب میں انہوں نے لجنہ اماءاللہ دفتر لجنہ جمعہ کے علاوہ ہفتہ کے اور دودنوں میں بھی کھولا جانے جیسی تنظیم سے تعارف حاصل ہونے پر بڑی مسرت کا اظہار کیا۔لگا۔اپریل ۱۹۵۵ ء میں محترمہ جلیبہ بیگم ہاشمی صاحبہ کو تنخواہ دار سکوٹیری نومبر کو لجنہ اماءاللہ کراچی کے زیر اہتمام احمد یہ بال ہیں مقرر کیا گیا۔جنہوں نے روزانہ آفس کھولنا شروع کیا اور تاحیات بڑے ایک بڑا جلہ سیرت النبی منعقد کیا گیا۔جس کی مہمان خصوصی محترمہ بیگم صاحبہ خلوص و جانفشانی سے اپنے فرائض انجام دیئے۔دفتر کو اگست 1990ء خان عبدالقیوم خان صاحب سابق وزیر اعلیٰ صوبہ سرحد تھیں۔جلسہ میں کافی میں انہ مصر و ترتیب دیا گیا اور مہرات نے باہمی چندہ سے اس کی تزئین و غیر از جماعت مہمان خواتین شامل ہوئیں۔آرائش کی۔دفتر کے باقاعدہ افتتاح کی ریم 19 ستمبر ۱۵ء کو محترمہ صدر 195 ء میں حضور ایدہ اللہ پر قاتلانہ حملہ کے مزموم ارتکاب کے صاحبه لجنه مرکز یہ حضرت ام ناصر صاحبہ حرم محترم حضرت خلیفتہ اسیح الثانی سلسلہ میں لجنہ کراچی کی طرف سے ایک قرار داد منظور کر کے بلند مرکز یہ دیوہ اور کے دست مبارک و دعا سے انجام پائی۔اس موقع پر وزیر نہ یک کا حضور کے پرائیویٹ سیکرٹری کو بھجوائی گئی۔احمدیوں کے خلاف فسادات آغاز بھی کیا گیا۔چنانچہ اس پر سب سے پہلی عبادت حضرت سیدہ کے نتیجہ میں الفضل “ کی اشاعت بھی حکومت کی طرف سے ایک سال صدر صاحبہ کے محکم پر حضرت سیدہ اہم متین صاحبہ نے تحریر فرمائی جس کے کے لئے روک دی گئی پانامہ کی اور میں بات المصلح ، کراچی میں شائع نیچے حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہ، حضرت سیدہ ام متین صاحبہ صاجزادی ۹۵