المحراب — Page 30
کلام ان حضرت بانی سلسله احمدیه کے شکر رب عزو قبل خارج از بیان جس کے کلام سے ہمیں اس کا ملا نشاں اس نے درخت دل کو معارف کا پھیل دیا ہر سینہ شک سے دھو دیا ہر دل بدل دیا دیکھو خُدا نے ایک جاں کو مجھکا دیا ! گمنام پا کے شہرہ عالم بتا دیا ! جو کچھ مری مراد تھی سب کچھ دکھا دیا میں اک غریب تھا مجھے بے انتہا دیا اک قطرہ اس کے فضل نے دریا بنا دیا میں خاک تھا اسی نے شریا بنا دیا تئیں تھا غریب و بیکس و گمنام دبے ہنر کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیاں کدھر ؟ لوگوں کی اس طرف کو ذرا بھی نظر نہ تھی میرے وجود کی بھی کسی کو خبر نہ تھی اب دیکھتے ہو! کیسارہ جوع جہاں ہوا اک مرجع خواص یہی قادیاں ہوا !! ۳۲