المحراب — Page 22
پیغام مکرم محترم مر چودھری احمد مختار صاحب امیر جماعت احمدیہ کراچی اللہ تعالی کا کس قدر فضل و کرم ہے کہ ہم نے ایک ایسا زمانہ پایا ہے جس میں اخلاق و اقدار اسلامی کے اجاگر ہونے کا دور پھر سے شروع ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے پیدائش انسانی کو مرد و عورت میں تقسیم کر کے مختلف قومی اور استعدادیں عطا فرمائیں لیکن مقصد حیات دونوں کا ایک ہی قرار پایا یعنی مقام عبودیت کا حصول اور اس کی رضا پر راضی رہنے کی جنت۔ان دونوں کو اس کام کے لئے تیار کیا کہ ابتدائی طور پر دنیاوی زندگی میں ایک اعلیٰ معاشرے کو قائم کریں جو اس حیات میں ایک جنت کا نمونہ ہو۔دور انسانی کے شروع میں ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا یا آدم اسکن انت و زو جک الجنته یعنی تم دونوں اس جنت میں اکھٹے رہو یا اکھٹے رہو گے تو یہ جنت جنت رہے گی۔ان اقدار کو قائم کرنے کے لئے فرمایا کہ هن لباس لكم و انتم لباس لهن جس طرح لباس انسانی بر جنگی کی پردہ پوشی کرتا ہے بدن کی کمزوریوں اور عیوب کو چھپاتا ہے سردی و گرمی کے اثرات یعنی افراط و تفریط سے محفوظ رکھتا ہے اور زیبائش کا موجب ہوتا ہے اسی طرح تم ایک دوسرے کے لئے لباس بنو گے تو وہ جنت پیدا ہوگی جس کو رہائش و آسائش کے لئے اللہ تعالٰی نے ودیعت کیا ہے اور جب یہ ماحول پیدا ہوتا ہے تو ہر گھر ارد گرد کی آلائشوں سے پاک ایک جنت کا نمونہ بن جاتا ہے۔اس زندگی میں بقائے اقدار انسانی کے لئے بڑی ذمہ داری مشیت الہیہ نے عورت پر ڈالی ہے جو تقویٰ کی راہوں پر چل کر اپنی اولاد کو لانکہ اللہ بنادیتی ہے اور ان کے گرد و پیش ایک جنت بنا کر دکھا دیتی ہے۔جب ہی تو محسن اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔بہت بڑی ذمہ داری ہے اپنے ماحول کو جنت نما بنانے کی لیکن جب تک اولاد اس جنت کو دیکھ نہیں پائے گی اپنی ماں کے قدم بوس نہیں ہوگی۔اے پیاری عزیز بھٹو۔آؤ ہم اپنے آقا سید و مولی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم سے عہد وفا کی تجدید کریں اس عزم کے ساتھ کہ ہمیں اس ماحول میں اس جنت کو پیدا کرتا ہے جس سے انسانیت پھر کبھی باہر نہ نکالی جائے اور اس کے قیام سے ہم نے اخروی حیات کی جنت کا انعام پانا ہے۔اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ۔این است کار دل اگر آید میترم خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔آمین یا رب العالمین۔خاکسار شار ۲۴