المحراب

by Other Authors

Page 128 of 167

المحراب — Page 128

آقا اور بیگم صاحبہ کے ساتھ موجو د تھیں۔تلاوت کلام پاک آپا امتہ الہادی صاحبہ نے اس طرح کی کہ حضور سورۃ التین کی آیت پڑھتے اور آپا بادی اُسے ہر انہیں اس کے بعد امہ تعلیم قاہدہ صاحبہ نے کلاس منعقد کرانے کی کوششوں کا تعارف کروایا۔پھر حضور نے انتشاحی خطاب سے نواندا۔سورۃ فاتحہ کی دلنشیں تفسیر فرمائی اور اس کی یہ حکمت واضح فرمائی کہ چونکہ قرآن کر یہ کا افتتاح اس سورہ سے ہوتا ہے اس لئے افتتاح کو باہر کٹ بنانے کے لئے اس سورہ سے افتتاح کرنا چاہیئے۔حضور علم و عرفان کے موتی بکھیر رہے تھے اور حاضرات دم بخود اس مقدس پہ پہرے کو دیکھ رہی تھیں۔وہ نہیں جانتی تھیں کہ عنقریب 190 ء کا ظالمانہ آرڈینینس اس پاک تورانی وجود کو کچھ عرصہ کے لئے ہم سے دور لے جائے گا۔اور حسین مجالس ایک یاد بن جائیں گی۔رایک یا خیاں کی یاد میں سرد مسمن ادامس اہل حین فسردہ ہیں گلشن اداس ہے بس یاد دوست اور نہ کر فرش دل پر رقص من کتنی تیرے پاؤں کی جھانجن اداس ہے لہ تعالی نے قرآن کریم اور حضرت عل اللہ یہ کام کی نشانیوں کے مابین اس زمین میں حضرت بی مورد و میانی بارود کے نیند کی دن اور انگری امام مقتدر کر رکھی ہے۔اس اہم مقصد کی تکمیل کے لئے الہ تعالیٰ نے سیدنا حضرت مصلح مورد خلیفہ پالیسی حالات میں آیا تنظیم الشان کے بیل ہیں ۱۹۱۴ء کے انتہائی نامساء الثانی آسانی نظام التقاء فرمایا جوجماعت احمدیہ کی ترقی اور استحکام کے لئے نہایت با برکت ثابت ہوا ہے۔یہ بابرکت نظام " تحریک جدید " کے نام سے موسوم ہے۔تحریک جدید کے کچھ مطالبات ہیں جو جماعت کی تربیت تنظیم اور تبلیغ سے تعلق رکھتے ہیں۔ان سب کاموں کو پھلانے کیلئے ایک خاص چندے کی تحریک کی گئی جو چندہ تحریک جدیدہ کہلاتا ہے۔اس چندہ سے جمائی ترقی اور استحکام کے لئے بہت سے کام کئے جارہے ہیں۔لیکن اس چندے کا سب سے بڑا مصرف بیرونی مالک میں اسلام کی تبلیغ ہے۔اور آج الہ تعالی کے فضل سے یہ تبلیغ اتنی وسیع ہوچکی ہے رعماد دنیا کا کوئی مستہ اس سے خالی نہیں۔اسلام کے فدائی مجاہد جنہوں نے اپنی زندگیاں خدمت دین کے لئے وقف کر رکھی ہیں تحریک جدید کے ذریعہ دنیا کے ہر منہ میں دن رات تبلیغ اسلام اے رحیم و کریم خدا تو جلد ایسے دن لا کہ آقا پھر ہمارے درمیان کی مخلصانہ خدمت بجالار ہے ہیں۔دنیا کی متعلقہ اہم زبانوں ہی قرآن کریم کے تراجم اور دیگر بنفس نفیس موجود ہوں اور ہم بلا واسط ان کی دلنشیں آواز میں آمین بالم آمین۔اسلامی لٹریچر کی کثیر اشاعت ہوچکی ہے۔دنیا بھرمیں سینکڑوں مساجد کی تعمیر ہو چکی ہے۔ہم نے ساری دنیا میں تبلیغ کرتی ہے۔ہم تا ہے۔ہم نے جیتہ پتہ پر حضرت محمد رسول اللہ کی حکومت قائم کرنی ہے۔اب ایک یا دو ملکوں کا سوال نہیں ، اب سر دھڑ کی بازی لگانے کا سوال ہے۔یا کفر جیتے گا اور ہم میں گئے۔یا گھر مرے گا اور ہم جیتیں گے۔درمیان میں اب بات نہیں رہ سکتی یا سیدنا حضرت مصلح موعود اور دریوں تعلیمی طبی اور رفاہی اداروں کا قیام عمل میں آپ کا ہے۔تحریک جدید کی ان ہمہ گیر مخلصانہ مسائی کے نتیہ میں دنیا کے ہر صافہ میں سعید اور نیک فطرت لوگ حلقہ بگوش اسلام ہورہے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ کام شدید ترین مخالفت کے باوجود روز بروز وسعت پذیر ہے۔جسے دیکھتے ہوئے آج ہم اللہ تعالی کے فضل سے برمل طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ جماعت ہوتا۔یہ سب برکات یقینا اللہ تعالی کے خاص فضل و رحمت کا ثمرہ ہیں مگر ظاہر میں اس کا ذریعہ تحریک تجدید ہے میں کا سارا نظام اسی مقصد کے حصول کے گرد چکر لگاتا ہے۔تحریک جدید کے بارہ میں حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں :۔یاد رکھو ! یہ تحریک خدا تعالی کی طرف سے ہے۔اس لئے وہ اسے ضرور ترقی دینا۔اور اس کی راہ میں جو روکیں ہوں گی اُن کو بھی دور کر دے گا۔اور اگر زمین سے اس کے سامان پیدا نہ ہوں گے تو آسمان سے خدا تعالیٰ اس کو برکت دے گا۔پس مُبارک ہیں وہ جو بڑھ چڑھ کہ اس تحریک میں حصہ لیتے ہیں۔کیونکہ اُن کا نام ادب واحترام سے اسلام کی تاریخ نہیں پیشہ زندہ رہے گا۔اور خدا تعالیٰ کے دربارمیں یہ لوگ خاص عزت کا مقام پائیں گے کیونکہ انہوں نے خود تکلیف انشا کر دین کی مضبوطی کے لئے کوشش کی اور ان کی اولادوں کا خدا تعال تو تشکیل ہوگا اور آسمانی نور ان کے سینوں سے ابل کر نکلتا رہے گا اور دنیا کو روشن کر تا رہے گا۔