اللہ تعالیٰ — Page 11
نے کھولا ہے۔11 جل شانہ و عزاسمہ ہے بغیر جسمانی زبان کے۔اسی طرح نیستی سے ہستی کرنا۔اس کا کام ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ خواب کے نظارہ میں بغیر کسی مادہ کے ایک عالم پیدا کر دیتا ہے اور ہر ایک فانی اور معدوم کو موجود دکھلا دیتا ہے۔پس اسی طرح اس کی تمام قدرتیں ہیں۔نادان ہے وہ جو اس کی قدرتوں سے انکار کرے۔اندھا ہے وہ جو اس کی عمیق طاقتوں سے بے خبر ہے۔وہ سب کچھ کرتا ہے اور کر سکتا ہے بغیر ان امور کے جو اُس کی شان کے مخالف ہیں یا اس کے مواعید کے برخلاف ہیں۔اور وہ واحد ہے اپنی ذات میں اور صفات میں اور افعال میں اور قدرتوں میں اور اس تک پہنچنے کے لئے تمام دروازے بند ہیں مگر ایک دروازہ جو فرقان مجید (رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۰۹ تا ۳۱۱) اَلْحَمْدُ لِلَّهِ - تمام محامد اس ذات معبود برحق مستجمع جمیع صفات کا ملہ کو ثابت ہیں جس کا نام اللہ ہے۔ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں کہ قرآن شریف کی اصطلاح میں اللہ اس ذات کامل کا نام ہے کہ جو معبود برحق اور متجمع جمیع صفات کا ملہ اور تمام رزائل سے منز ہ اور واحد لاشریک اور مبدء جمیع فیوض ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ نے اپنے کلام پاک قرآن شریف میں اپنے نام اللہ کو تمام دوسرے اسماء وصفات کا موصوف ٹھہرایا ہے اور کسی جگہ کسی دوسرے اسم کو یہ رتبہ نہیں دیا۔پس اللہ کے اسم کو بوجہ موصوفیت تامہ ان تمام صفتوں پر دلالت ہے جن کا وہ موصوف ہے۔اور چونکہ وہ جمیع اسماء اور صفات کا موصوف ہے اس لئے اس کا مفہوم یہ ہوا کہ وہ جمیع صفات کا ملہ پر مشتمل ہے۔پس خلاصہ مطلب الْحَمْ اللہ کا یہ نکلا کہ تمام اقسام محمد کے کیا باعتبار ظاہر کے اور کیا باعتبار باطن کے اور کیا باعتبار ذاتی کمالات کے اور کیا باعتبار قدرتی عجائبات کے اللہ سے مخصوص ہیں۔اور اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں۔اور نیز جس قدر محامد صحیحہ اور کمالاتِ تامہ کو عقل کسی عاقل کی سوچ سکتی ہے یا فکر کسی متفکر کا ذہن میں لاسکتا ہے وہ سب خوبیاں میں موجود ہیں اور کوئی ایسی خوبی نہیں کہ عقل اس خوبی کے امکان پر شہادت دے مگر اللہ ،