اللہ تعالیٰ — Page 9
۹ جل شانہ و عزاسمہ ذات اور صفات میں واحد ہے نہ کوئی ذات اُس کی ذات جیسی از لی اور ابدی یعنی انادی اور ا کال ہے۔نہ کسی چیز کے صفات اس کی صفات کے مانند ہیں۔انسان کا علم کسی معلم کا محتاج ہے اور پھر محدود ہے مگر اس کا علم کسی معلم کا محتاج نہیں اور بائیں ہمہ غیر محدود ہے۔انسان کی شنوائی ہوا کی محتاج ہے اور محدود ہے مگر خدا کی شنوائی ذاتی طاقت سے ہے اور محدود نہیں۔اور انسان کی بینائی سورج یا کسی دوسری روشنی کی محتاج ہے اور پھر محدود ہے مگر خدا کی بینائی ذاتی روشنی سے ہے اور غیر محدود ہے۔ایسا ہی انسان کی پیدا کرنے کی قدرت کسی مادہ کی محتاج ہے اور نیز وقت کی محتاج اور پھر محدود ہے لیکن خدا کی پیدا کرنے کی قدرت نہ کسی مادہ کی محتاج ہے نہ کسی وقت کی محتاج اور غیر محدود ہے کیونکہ اس کی تمام صفات بے مثل و مانند ہیں اور جیسے کہ اس کی کوئی مثل نہیں اس کی صفات کی بھی کوئی مثل نہیں۔اگر ایک صفت میں وہ ناقص ہو تو پھر تمام صفات میں ناقص ہوگا۔اس لئے اس کی توحید قائم نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ اپنی ذات کی طرح اپنے تمام صفات میں بے مثل و مانند نہ ہو۔پھر اس سے آگے آیت مدوحہ بالا کے یہ معنے ہیں کہ خدا نہ کسی کا بیٹا ہے نہ کوئی اس کا بیٹا ہے۔کیونکہ وہ فنی بالذات ہے۔اس کو نہ باپ کی حاجت ہے اور نہ بیٹے کی۔یہ توحید ہے جو قرآن شریف نے سکھلائی ہے جو مدارا ایمان ہے۔لیکچر لاہور۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۵۲ تا ۱۵۵) خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں اپنی جماعت کو اطلاع دوں کہ جو لوگ ایمان لائے ایسا ایمان جو اس کے ساتھ دنیا کی ملونی نہیں اور وہ ایمان نفاق یا بز دلی سے آلودہ نہیں اور وہ ایمان اطاعت کے کسی درجہ سے محروم نہیں۔ایسے لوگ خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں اور خدا فرماتا ہے کہ وہی ہیں جن کا قدم صدق کا قدم ہے۔اے سُننے والوسنو!! کہ خدا تم سے کیا چاہتا ہے۔بس یہی کہ تم اُسی کے ہو جاؤ اُس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرو نہ آسمان میں نہ زمین میں۔ہمارا خدا وہ خدا ہے جواب