اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اِسلامی تصور — Page 82
AY قیامت تک اپنی دماغی قومیں خرچ کریں تو کوئی عقلمند ہر گنہ باور نہیں کر سکتا کہ وہ ان خواص پر احاطہ تام کرلیں سو یہ خیال کہ اجرام علوی یا اجسام سفلی کے خواص جس قدر بذریعہ علم ہیئت یا طبعی دریافت ہو چکے ہیں ، اسی قدر پر ختم ہیں۔اس سے زیادہ کوئی ہے مجھی کی بات نہیں یا اے کیا کوئی عقلمند خیال کر سکتا ہے کہ انسان دنیا کے مکتب خانہ مین یاد بود اپنی اس قدر عمر قلیل کے تحصیل اسرار ازلی و ابدی سے بکلی فراغت پا چکا ہے۔اور اب اس کا تجربہ عجائبات الہیہ پر ایسا محیط ہو گیا ہے کہ جو کچھ اس کے تجربہ سے باہر ہو وہ فی الحقیقت خدا تعالے کی قدرت سے باہر ہو۔میں جانتا ہوں کہ ایسا خیال بجز ایک بے شرم اور اہلہ آدمی کے کوئی دانشمند نہیں کر سکتا۔فلاسفروں میں سے جو واقعی نیک، دانا اور بیچے روحانی آدمی گزرے ہیں انہوں نے خود تسلیم کر لیا کہ ہمارے خیالات جو محدود اور منقبض ہیں ، خدا اور اس کے بے انتہا بھیدوں اور حکمتوں کی شناخت کا ذریعہ نہیں ہو سکتے " ہے " ۵۳ سرمه چشم آريه ص (روحانی خزائن جلد ۲ ص ) : سرمه چشم آریز" ص (روحانی خزائن جلد ۲ ص ) به